Friday, 23 July, 2004, 01:31 GMT 06:31 PST
امریکہ پر حملوں کی تحقیقات کرنیوالے گیارہ ستمبر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی مزید حمایت کرے۔
کمیشن نے جنرل مشرف کی حکومت کو افغانستان اور پاکستان میں استحکام کے لئے بڑی امید قراد دیا اور یہ بھی کہا کہ جنرل مشرف روشن خیال اعتدال پسندی کے حامی رہے ہیں۔
گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی دہشت گردی‘ کے خلاف مہم میں پاکستان کے کردار کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔
خودمختار کمیشن نے امریکی حکومت سے اپیل کی کہ طویل عرصے کے لئے جو بھی مشکل فیصلہ پاکستان کے حق میں کرنا پڑے کیا جائے اور یہ فیصلہ جامع کوششوں کا حصہ ہو جس میں فوجی اور تعلیمی امداد شامل ہو۔
گیارہ ستمبر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کےعلاوہ، افغانستان، ایران، عراق اور سعودی عرب کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
کمیشن کے چیئر مین تھامس کین نے کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملہ آوروں نے امریکی لوگوں کو ناقابلِ برداشت اذیت پہنچائی اور عالمی نظام کو درہم برہم کر دیا۔
تھامس کین نے کہا کہ امریکی حکومت عالمی سطح پر امریکے کے خلاف پیدا ہونے والے خطرات کا اندازہ نہیں کر پائی۔