Friday, 16 July, 2004, 21:56 GMT 02:56 PST
جیسے جیسے وفود بنکاک کی گرمی سے نمٹتے ہوئے پروازیں لے کر دنیا کے مختلف کونوں میں پھیلنے کے لیے تیار ہو رہے تھے کانفرنس اور اس کی کامیابی کے بارے میں تجزیے بھی ہونا شروع ہو چکے تھے۔
فیصلہ توتاریخ کرے گی مگر اس طرح کے اجلاس اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ ان میں آنے والے وقت کے لیے ایجنڈا یا مقاصد کا تعین کیا جاتا ہے۔
چھ دنوں کی بحث میں جس اہم موضوع کا زیادہ ذکر ہوا وہ قیادت تھا۔
![]() ایڈز کی برمی مریضہ |
بنکاک کانفرنس کا عملی نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایڈز سے لڑنے کے لیے حکومتیں قریبی تعلقات قائم کریں اور غیر سرکاری ادارے نچلی سطح پر مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس مرض کے خلاف لڑیں لیکن اس طرح کے بیانات تو پہلے بھی دیے جاتے رہے ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام مالک بشمول امریکہ اور یورپ بھی اسے سیاسی ایجنڈا بنایا جائے۔ برطانیہ اس سلسلے میں اپنی قیادت کا مظاہرہ اگلے ہفتے کرے گا جب ایڈز کے خلاف اس کی حکمت عملی کا اعلان ہوگا۔
![]() ایڈز کی افریقی مریضہ |
ایڈز کی ادویات یا ویکسین کے حوالے سے سائنسی میدان میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی اس لیے زیادہ تر سائنسدانوں نے کانفرنس میں شرکت گوارہ نہیں کی۔ لیکن پہلی دفہ اس کانفرنس میں خواتین کے لیے جیلی نما دوا کا ذکر ہوا جو انہیں اس وائرس سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
اس مرض کا زیادہ سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں اس لیے کہ ان کے مرد ساتھی اکثر کنڈوم کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
گو پچھلے کچھ سالوں میں ایڈز کی دواؤں کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن اب بھی وہ غریب ملکوں کےلاکھوں مریضوں کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیمیائی ناموں کے ساتھ دستیاب ہونے والی دوائیں بنانے والی کمپنیاں جو سستی ادویات بناتی تھیں اب اپنے مفادات کے تحفظ کے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں۔
![]() دواساز ادارے اپنے مفادات کے تحفظ کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں |
ایڈز پر اگلا اجلاس کینیڈا میں ہوگا۔
بنکاک میں ہونے والی پیش رفت کو عملی شکل دینے کی یقین دہانی نہ ہونے کی وجہ سے ماہرین دوبارہ جمع ہوں گے تو اس وقت تک دنیا میں تقریباً دس ملین اور لوگ ایڈز اور ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہوں گے۔