Saturday, 10 July, 2004, 13:31 GMT 18:31 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
افغانستان کے جنوبی سرحدی شہر سپین بولدک کے قریب افغان فوجیوں کی ایک چوکی پر کوئی چالیس کے لگ بھگ مشتبہ طالبان نے حملہ کیا ہے لیکن افغان حکام کا دعوی ہے کہ حملہ پسپا کر دیا گیا ہے اور اس کارروائی میں طالبان کے ایک کمانڈر ملا عبدالحئی ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
سپین بولدک میں سرحدی امور کے انچارج عبدالرازق نے بتایا ہے انھیں یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ اس حملے میں چار طالبان ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تین کی لاشیں ان کے ساتھی فرار ہوتے ہوئے ساتھ لے گئے ہیں جب کہ ایک لاش وہ چھوڑ گئے ہیں۔
دوسری جانب آزاد ذرائع نے کہا ہے کہ مشتبہ طالبان کا ایک رکن ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ سپین بولدک کی انتظامیہ کے مطابق اس کارروائی میں افغان فوجیوں کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
عبدالرازق نے بتایا ہے کہ چالیس کے لگ بھگ مسلح طالبان نے رات لوئے کاریز کے علاقے میں ککڑی کے مقام پر ایک افغان فوجی چوکی پر حملہ کیا جسے افغان فوجیوں نے پسپا کر دیا۔ انھوں نے بھی کہا ہے کہ اس کارروائی میں طالبان کے کمانڈر ملا عبدالحئی ہلاک ہوئے ہیں۔
دریں اثناء قندھار سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ مشتبہ طالبان نے ایک سکول کی عمارت کو آگ لگا دی ہے۔ یہ عمارت حال ہی میں بچوں کے لیے امریکہ کی مدد سے بنائی گئی تھی۔ مقامی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اس واردات میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ یہ سکول میوند ضلع میں قائم کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ گزشتہ روز صوبہ ہلمند میں افغان فوجیوں اور مشتبہ طالبان کے مابین جھڑپ میں تین طالبان اور تین افغان فوجی زخمی ہوئے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب سے افغانستان میں انتخابات کے حوالے سے تیاریاں شروع ہوئی ہیں اس طرح کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔