http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 02 July, 2004, 03:28 GMT 08:28 PST

پیشکش نامنظور ہونے کا خدشہ

عراق کے نائب وزیر خارجہ حامد البیاتی نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں عراق اردن کی فوج بھیجنے کی پیشکش کو رد کردے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے مصر، بحرین اور امان سے عراق فوج بھیجنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاوی نے اپنی تحریری درخواست میں ان ملکوں سے کہا ہے کہ ان افواج سے عراق کی سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

البیاتی نے کہا کہ عراق اپنے نزدیکی ہمسایوں سے مدد نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس سے ملک کی سکیورٹی کی صورت حال اور پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردن اگر چاہے تو عراقی افواج کی تربیت میں مدد کر سکتا ہے۔

پہلے اطلاعات تھیں کہ عراق کی نئی عبوری حکومت نے اردن کی فوج عراق بھیجنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔

عراقی حکومت نے تمام عرب ممالک سے عراق کی مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر نئی حکومت نے درخواست کی تو ان کا ملک اپنی فوج عراق بھیج کر فوج بھیجنے والا پہلا عرب ملک بن جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ کے بیان سے بش انتظامیہ بہت خوش ہو گی کیونکہ اس سے نئی عراقی انتظامیہ کو اقتدار کی منتقلی کے بعد اردن کی پالیسی میں تبدیلی کا اظہار ہوتا ہے۔

یمن نے بھی اپنی فوجیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔