Thursday, 24 June, 2004, 00:31 GMT 05:31 PST
سعودی عرب نے ایک ماہ کے اندر اندر خود کو حکام کے حوالے کرنے والے مشتبہ شدت پسندوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری ٹیلی وثرن پر شاہ فہد کی جانب سے پڑھے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ بھی اس معافی کے حقدار ہونگے جنہوں نے مذہب کے نام پر جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔
بیان کے مطابق جو لوگ ایک ماہ کے اندر اندر خود کو قانون کے حوالے کردیں گے ان کے ساتھ اللہ کے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔
گزشتہ ایک برس میں سعودی عرب میں کئی خود کش بم دھماکے ہوئے ہیں اور حال ہی میں شدت پسندوں نے غیر ملکیوں کواغوا کرنا شروع کر دیا۔
سعودی حکومت نے سدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں جس کی وجہ سے ریاض اور دوسرے مقامات پر محاصرے اور دو طرفہ فائرنگ ہوئی۔
بی بی سی رپورٹر حبا صالح کا کہنا ہے کہ اس بیان کا متن مبہم ہے لیکن سعودی وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے گی یا انہیں معاف کردے گی جو خود کو قانون کے حوالے کر دیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ خود کو قانون کے حوالے نہیں کریں گے انہیں حکومت کے غیض و غضب کا سامنا ہوگا ۔