Monday, 14 June, 2004, 03:43 GMT 08:43 PST
شمالی کوریا نے ایک بار پھر بین الاقوامی برادرای کی یہ اپیل مسترد کر دی ہے کہ اگر اس کے یہاں ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی منصوبہ زیرعمل ہے تو اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ نے پچھے ہفتہ ہونے والے جی ایٹ (دنیا کے آٹھ سب سے بڑے صنعتی ممالک) کے اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممالک ایٹمی پابندیاں لگا کر عراق جیسا ایک اور بحران کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ اپنے دفاع کے لئے جوہری ہتھیاروں کا حصول جائز ہے۔
شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام سے متعلق چھ ملکوں کا ایک اجلاس آئندہ ہفتہ کو بیجنگ میں ہوگا۔
گزشتہ ہفتہ ہونے والے جی ایٹ کے اجلاس میں امریکی صدر بش کے اس اعلان کی حمایت کی گئی تھی کہ شمالی کوریا ایٹمی اسلح بنانے کا منصوبہ ختم کر دے۔
شمالی کوریا نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک ایک بار پھر عراق جیسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
شمالی کوریا نہ اپنے ہاں پلوٹونیم تیار کرنے کا پلانٹ ہونے کا تو اعتراف کیا ہے تاہم اس الزام سے ہمیشہ انکار کرتا رہا ہے کہ اس کے پاس یورینیم کا پلانٹ ہے۔
یورینیم کو ایک خاص عمل سے گزارنے کے بعد پاور سٹیشنوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم اگر اسے کچھ اینریچ کر لیا جائے تو اس کا استعمال جوہری اسلحہ مں کر سکتا ہے۔