حجاب لینا لازمی عمل یا اختیاری: انڈین سپریم کورٹ کے ججز کی رائے منقسم، معاملہ لارجر بینچ دیکھے گا

وقت اشاعت

انڈیا کی سپریم کورٹ ملک میں مسلم خواتین کے حجاب لینے کے حق کے مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں کی اس معاملے میں مختلف آرا کے باعث کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر رہی ہے اور اب اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کا لارجر بنچ کرے گا۔

انڈیا کی سپریم کورٹ کے جسٹس ہیمنت گپتا اور سدھانشو دھولیا کا دو رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔

مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ایک جج نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ اسلام میں حجاب لینا لازمی نہیں ہے۔ جبکہ بینچ میں موجود دوسرے جج کا کہنا تھا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ غلط ہے اور حجاب لینا خواتین کی مرضی کی بات ہے۔

جمعرات کو اس مقدمے میں ہونے والی کارروائی کا مطلب ہے کہ انڈیا میں حجاب کے معاملے پر گذشتہ دس ماہ سے جاری بحث اب بھی ہوتی رہے گی۔

سماعت کے دوران جسٹس گپتا نے کہا کہ حجاب کے بارے میں ہماری مختلف آرا ہیں، اس لیے یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا جا رہا ہے تاکہ وہ لارجر بنچ تشکیل دیں۔

تاہم اس دوران کرناٹک ہائی کورٹ کا جاری کردہ فیصلہ نافذ رہے گا۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں، کرناٹک ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ کلاس رومز میں حجاب پہننے کی اجازت دینا ’مسلم خواتین کی آزادی میں رکاوٹ بنے گا‘ اور یہ انڈین آئین کے ’مثبت سیکولرازم‘ کی روح کے بھی خلاف ہو گا۔

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ’اسلام کے مطابق حجاب لازمی نہیں ہے۔‘

ہائی کورٹ نے اپنے 129 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرآن کی آیات اور متعدد اسلامی تحریروں کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے طالبات کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ یہ معاملہ گذشتہ سال جولائی میں اس وقت شروع ہوا تھا جب کرناٹک کے اڈوپی ضلع کے ایک جونیئر کالج نے طالبات کو حجاب پہن کر سکول جانے سے روک دیا تھا۔

یکم جولائی 2021 کو گورنمنٹ پی یو کالج فار گرلز نے فیصلہ کیا تھا کہ کس قسم کے لباس کالج یونیفارم کے طور پر قبول کیا جائے گا اور کہا کہ طالبات کے لیے ان ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔

تاہم ریاست میں کووڈ لاک ڈاؤن کے بعد جب کالج دوبارہ کھلا تو کچھ طالبات کو معلوم ہوا کہ ان کی سنیئر طالبات حجاب پہن کر آتیں تھیں۔ ان طالبات نے اس بنیاد پر کالج انتظامیہ سے حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی۔

کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی اڈوپی ضلع میں سرکاری جونیئر کالجوں کے یونیفارم کا فیصلہ کرتی ہے اور اس کی سربراہی مقامی رکن اسمبلی کرتے ہیں۔

بی جے پی رکن اسمبلی رگھویر بھٹ نے مسلم طالبات کا مطالبہ قبول نہیں کیا اور انھیں کلاس کے اندر حجاب پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دسمبر 2021 میں طالبات نے حجاب پہن کر کیمپس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن انھیں باہر ہی روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان لڑکیوں نے کالج انتظامیہ کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور جنوری 2022 میں حجاب پر پابندی کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔

یہ معاملہ اڈوپی ضلع سے شروع ہوا لیکن جلد ہی جنگل کی آگ کی طرح دوسرے اضلاع میں بھی پھیل گیا۔

شیوموگا اور بیلگاوی اضلاع میں حجاب پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ اور ہندوتوا کی نمائندگی کرنے والے زعفرانی سکارف پہنے طالبات نے حجاب پہننے والی طالبات کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی تھی۔ جس کے بعد کونڈا پور اور چکمگلور میں ہندو اور مسلم طلبہ کے مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔