آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انس ملک: کابل سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی رہا
افغانستان کے دارالحکومت کابل سے جمعرات کو لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی انس ملک کو رہا کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق ان کی انس ملک سے بات ہوئی ہے اور وہ رہائی کے بعد ہوٹل جا رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کے دو ساتھی تاحال افغان طالبان کی حراست میں ہیں۔
انس ملک نے ٹوئٹر پر اپنی واپسی کی اطلاع دے دی ہے جبکہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ اُن کی انس ملک سے فون پر بات ہوئی ہے، وہ کابل میں ہیں اور محفوظ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سفارتخانہ ان سے رابطے میں رہے گا۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ انس اور ان کے ساتھیوں کو کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا اور نہ ہی طالبان کی جانب سے اس ضمن میں کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
انس ملک انڈین میڈیا ادارے ویئون نیوز سے منسلک ہیں اور ماضی میں مختلف پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا اداروں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔
اُنھوں نے اب سے دو دن قبل ہی اپنی افغانستان واپسی کی اطلاع ٹوئٹر پر دی تھی جہاں سے وہ گذشتہ سال افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال پر رپورٹ کرتے رہے ہیں۔
ویئون پر ان کی آخری رپورٹ تقریباً 12 گھنٹے پہلے شائع ہوئی تھی جس میں اُنھوں نے کابل میں واقع وہ گھر دکھایا تھا جہاں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری مقیم تھے اور ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
انس ملک کی گمشدگی کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقامی حکام اور افغانستان میں پاکستانی مشن سے رابطے میں ہیں تاکہ اُن کی جلد اور بحفاظت پاکستان واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بھائی حسان ملک نے بی بی سی اردو کے بلال کریم مغل کو بتایا کہ انس بدھ کی سہ پہر کو افغانستان گئے تھے اور اسی روز رات 12 بجے کے قریب ان سے اُن کا آخری مرتبہ رابطہ ہوا تھا، جبکہ اپنے ساتھی صحافیوں کے ساتھ ان کا آخری مرتبہ رابطہ جمعرات کو ہوا تھا۔
اُنھوں نے افغانستان اور پاکستان کے حکام سے اپیل کی تھی کہ انس کو جلد از جلد بازیاب کروایا جائے۔
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ملک مدثر نے بتایا کہ اُن کی انس ملک سے آخری مرتبہ بات جمعرات کو دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ہوئی تھی کہ کھانا ساتھ کھائیں گے مگر اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی وہ ملاقات کے لیے آئے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اُن کے واٹس ایپ پر آخری وقت جمعرات کی دوپہر 1 بج کر 50 منٹ آ رہا تھا چنانچہ ممکنہ طور پر وہ اسی دورانیے میں لاپتہ ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
جمعرات کی شب انس ملک کی گمشدگی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر اُن کی بازیابی کے مطالبات اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواستیں گردش کرتی رہیں۔
صحافی مونا خان نے لکھا کہ ’ہمارے دوست اور ساتھی انس ملک جمعرات کی دوپہر سے کابل سے لاپتہ ہیں۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے یہ معاملہ طالبان حکومت اور انٹیلیجنس کے سامنے اٹھایا ہے۔ اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے اور نہ کسی نے ان کی تحویل کا دعویٰ کیا ہے۔ اُن کے دونوں نمبرز بھی بند ہیں۔‘
سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے لکھا کہ ’انس ملک ایک بہادر، نوجوان اور ہمہ جہت رپورٹر ہیں۔ اُنھوں نے پاکستانی دفترِ خارجہ سے اس معاملے پر سرگرم کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔‘
ڈیجیٹل حقوق کی کارکن نگہت داد نے لکھا کہ انس ملک کی بحفاظت واپسی کی امید ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پرجوش، محنتی اور نوجوان پاکستانی صحافی ہیں جو کئی مہینوں سے افغانستان سے زبردست رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ نگہت داد نے وفاقی وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اُن کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ انس ملک کی گمشدگی کی خبر پریشان کُن ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ وہ محفوظ ہوں گے اور جلد مل جائیں گے۔‘
پاکستانی دفترِ خارجہ کے سابق ترجمان اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی انس ملک کی بازیابی کی تمنا ظاہر کی۔