آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک دن کے ڈپٹی کمشنر: ’سوچا نہ تھا کہ میں کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کروں گی، وہ سب جادو جیسا تھا‘
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو سروس سری نگر
- وقت اشاعت
’مُجھے پہلے عجیب لگا، لیکن جب میں ڈی سی کی کُرسی پر بیٹھی تو میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے ڈی سی ہونے کی ایکٹنگ کی۔ اتنے میں ایک سائل اندر آیا، اس نے درخواست پیش کی جس میں اُن کے گاؤں میں کھیل کا میدان تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میں نے درخواست منظور کر دی، کیونکہ زمین پہلے ہی الاٹ تھی اب صرف سٹیڈیم کی تعمیر ہونا تھی۔ اُس درخواست پر دستخط کرتے وقت میں حد سے زیادہ خوش تھی۔‘
18 سالہ اِرم سرور اپنی زندگی میں پیش آنے والے اس واقعے پر اس قدر خوش ہیں کہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے خیالات کا منظم انداز میں اظہار نہیں کر پا رہی تھیں۔
اِرم انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کریم آباد ہایئر سکینڈری سکول کے اُن درجنوں طلبا و طالبات میں شامل تھیں، جنھیں ضلع کی سِوّل اور پولیس انتظامیہ نے یہ موقع دیا تھا کہ وہ باری باری چند منٹوں تک ڈی سی کی فرائض سنبھالیں اور ذمہ داریاں ادا کریں۔
ارم بتاتی ہیں کہ ’میں نے سپنے میں بھی نہ سوچا تھا کہ میں ڈی سی کی کُرسی پر بیٹھوں گی اور فیصلے کروں گی۔ میں کیا بولوں۔۔۔ وہ سب جادو جیسے تھا۔‘
پلوامہ کے ڈپٹی کمیشنر چوہدری بصیرالحق کے مطابق دن بھر کے اس عمل کے دوران 12ویں جماعت کے ان طلبا نے دو درجن فیصلے کیے جن میں سے 20 فیصلوں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔
ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ ’یہ سبھی حکمنامے اِن ہی بچوں کے دستخط کے ساتھ ایک سرٹیفکیٹ کی شکل میں انھیں اپنے سکول انتظامیہ کے ذریعہ یادداشت کے طور پر فراہم کیے جائیں گے۔‘
اِرم سرور نے بطور ڈی سی دو معاملوں میں فیصلہ سُنایا۔ ایک اور غریب قبائلی شہری بھی اُن کے پاس آیا اور اپنے جھونپڑے میں سرکاری سبسڈی والے گیس چولہے کا مطالبہ کیا۔ ارم بتاتی ہیں کہ ’میں نے فوراً یہ مطالبہ منظور کر دیا۔ وہ سائل اتنا خوش ہوا کہ کیا بتاؤں۔ مجھے بہت محنت کرنی ہے کیونکہ میں بھی ڈی سی بننا چاہتی ہوں تاکہ لوگوں کی فوراً مدد کر سکوں۔‘
ایک اور طالبہ خُوشبو نبی کے لیے یہ تجربہ ’کامیاب ترین ماٹِیویشن‘ تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں افسر ہی بنوں گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خُوشبو جب ڈپٹی کمشنر کی کُرسی پر بیٹھیں تو اُن کے پاس ایک غریب شخص آیا اور کہا کہ اُس کے پاس اپنی دو بیٹیوں کی شادی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ’میں نے درخواست پر سوشل ویلفیئر محکمے کے نام حُکم لکھا کہ اس کی مدد کی جائے، آج جب سُنا کہ اس پر عمل بھی ہوا ہے، تو میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ملی۔‘
ضلع انتظامیہ کے مطابق سکول کے بچوں کو ضلع مجسٹریٹ کی کُرسی پر کچھ وقت کے لیے بیٹھا کر عوامی مسائل سُننے اور فوری فیصلے لینے کا موقع دینے کا مقصد ’بچوں میں انتظامی اُمور کے تئیں دلچسپی بڑھانا اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔‘
’مُجھے ایک دن کے لیے ایس پی بناؤ غنڈوں، موالیوں کی خبر لوں گا‘
ضلع پلوامہ کے اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس پروگرام کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ مجھے کل سے ہی لڑکوں اور لڑکیوں کے فون آ رہے ہیں۔ ایک سٹوڈنٹ نے کہا کہ سر مجھے ایک دن کے لیے ایس پی بنا دیں، میں چرسیوں، غنڈوں اور موالیوں کی ایسی خبر لوں گا کہ وہ توبہ کر لیں گے۔‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی تعداد میں نوجوان انڈین سِول سروِس کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ سنہ 2009 میں ہوئے وفاقی سطح کے انڈین ایڈمنسٹریٹِیو سروس امتحانات میں کپواڑہ کے رہنے والے شاہ فیصل نے پورے انڈیا میں ٹاپ کر کے اس رجحان کو اور فروغ دیا تھا۔
تاہم شاہ فیصل نے 2019 میں مستعفی ہو کر اپنی سیاسی تنظیم بنا ڈالی لیکن اس میں خاصی کامیابی نہ ملی تو اُنھیں گذشتہ برس دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
واضح رہے جموں کشمیر میں سرکاری نوکری نوجوانوں میں روزگار کی اولین ترجیح ہے۔ جموں کشمیر میں مستقل سرکاری ملازمین کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے، جن کی تنخواہوں پر 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا سرمایہ خرچ ہوتا ہے، جبکہ حکومت کا کُل بجٹ ایک لاکھ 42 ہزار کروڑ روپے پر مشتمل ہے۔
حکومتی ڈھانچے کو کشمیر میں ’سموک لیس انڈسٹری‘ یعنی بغیر دھویں کی صنعت کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں صنعتی کارخانوں پر آبادی کا نہایت ہی قلیل حصہ ہے۔
ضلع پلوامہ کے ایک شہری غلام حسن نے بتایا کہ ’بچوں کو سِول سروِس کی طرف راغب کرنے کا اس سے بہتر طریقہ نہیں ہو سکتا تھا، ہم انتظامیہ کے شکرگزار ہیں۔‘