انڈیا اور افغان طالبان میں رابطے کے بعد عبداللہ عبداللہ کی کابل واپسی کتنی اہم ہے؟

وقت اشاعت

افغان اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سابق چیئرمین اور سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ غیر متوقع طور پر کابل واپس پہنچ گئے ہیں۔ وہ سنیچر 11 جون کی صبح کابل واپس پہنچے اور ٹویٹر پر ایک مختصر پیغام میں اعلان کیا کہ ’میں آج صبح گھر واپس آیا ہوں۔‘

کابل کے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال طالبان کے چند نمائندوں اور سابق حکومتی عہدیداروں نے کیا، جن میں سینیٹ کے سابق اسپیکر ہادی مسلم یار بھی شامل تھے۔ ہادی مسلم نے ایک مختصر تقریر میں میڈیا کو بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ ’افغانستان کے لوگ اس ملک میں امن اور انصاف کے ساتھ رہیں۔۔‘

یاد رہے کہ طالبان حکومت نے عبداللہ عبداللہ کو عید الفطر کے دوران اپنے خاندان سے ملنے کے لیے ملک چھوڑنے کی اجازت دی تھی۔

طالبان نے سابق حکومت کے دیگر رہنماؤں اور اہلکاروں کو رضاکارانہ طور پر واپس آنے کی دعوت دی ہے، لیکن اب تک صرف چند سابق حکومتی اہلکار ہی واپس آئے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی دو بڑی سیاسی شخصیات تھے جو گزشتہ سال 15 اگست کو طالبان کی کابل آمد کے دوران کابل میں ہی رہے۔

اس وقت صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہو گئے تھے اور حالیہ مہینوں میں ان کے رشتہ داروں اور طالبان حکومت کے درمیان بند کمرے میں مذاکرات ہوئے ہیں جو ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ایسی اطلاعات تھیں کہ طالبان حکومت نے ان پر پابندیاں عائد کیں، ان کو گھر میں نظر بند رکھا اور بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا۔

عبداللہ عبداللہ کی کابل سے روانگی کے دو ہفتے بعد، طالبان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے جنازے میں شرکت کے لیے حامد کرزئی کو بھی متحدہ عرب مارات جانے سے روک دیا تھا۔ حامد کرزئی نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کیا آیا طالبان حامد کرزئی کو عبداللہ عبداللہ کے کابل واپس آتے ہی وہاں سے جانے دیں گے یا نہیں۔

عبداللہ عبداللہ کے قریبی ذرائع کے مطابق انھوں نے طالبان حکام سے قبائلی اور سیاسی رہنماؤں کی کابل واپسی کے لیے ضروری ضمانتوں کے بارے میں بات کی ہے۔

کابل چھوڑنے کے بعد اپنے پہلے واضح ردعمل میں، مسٹر عبداللہ نے پنجشیر اور اندراب میں طالبان کی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا۔ اگرچہ انھوں نے طالبان حکومت کا نام نہیں لیا، لیکن طالبان کے کچھ ارکان کی جانب سے ان کے اس بیان پر ردعمل سامنے آیا تھا۔

انھوں نے طالبان کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مسلسل غیر انسانی پالیسیاں، جبر، دھمکیاں اور لڑکیوں اور خواتین پر پابندیاں ملک کو مزید الگ تھلگ کر دیں گی اور نسلی کشیدگی میں اضافہ ہو گا، جس سے افغانستان خانہ جنگی کی طرف جائے گا۔‘

کچھ مبصرین نے طالبان پر ان کی تنقید کو ان کے واپس نہ آنے کے فیصلے کے طور پر دیکھا تھا۔

مسٹر عبداللہ نے 2009، 2014 اور 2019 میں تین متنازعہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا، جن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگے تھے۔

ان کے بہت سے حامی، خاص طور پر پنجشیر اور شمالی اور وسطی افغان صوبوں میں، انتخابات کے بعد ان کی کارکردگی سے ناخوش تھے۔

یہ بھی پڑھیے

عبداللہ عبداللہ دہلی میں کیا کر رہے تھے؟

انڈیا میں 43 روزہ قیام کے دوران، عبداللہ عبداللہ نے افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی تھامس ویسٹ، اور دیگر ممالک کے نمائندوں اور ممکنہ طور پر انڈین حکام سے ملاقاتیں کیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے کابل میں ان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا بھارت میں سیاسی رہنما کے طور پر خیر مقدم کیا گیا تھا۔

مسٹر عبداللہ کا خاندان کئی سالوں سے انڈیا میں مقیم ہے۔

26 مئی کو ان سے ملاقات کے بعد، امریکی خصوصی ایلچی نے ان کو ’افغان رہنما‘ کہا اور لکھا کہ انھوں نے مسٹر عبداللہ سے ’افغانستان کے مستقبل کے بنیادی مسائل اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات‘ کے بارے میں بات کی۔

دریں اثنا، انڈیا کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار جے پی سنگھ نے طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد پہلی بار کابل کا دورہ کیا۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے انڈین وفد کے دورہ کابل کو انڈیا کے ساتھ طالبان حکومت کے تعلقات میں ’اچھا آغاز‘ قرار دیا اور انڈیا کی امداد سے ترقیاتی منصوبوں کی بحالی اور افغانستان میں سفارتی اور قونصلر خدمات کی موجودگی پر زور دیا۔

جمعہ کو ہندوستان ٹائمز نے اطلاع دی تھی کہ جے پی سنگھ نے کابل میں وزیر دفاع محمد یعقوب اور طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے الگ الگ ملاقات کی تھیں، اور یہ کہ طالبان کے دو سینئر سیکیورٹی وزراء نے مسٹر سنگھ سے جہادی گروپوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ اخبار کے مطابق ان میں جیش محمد، لشکر طیبہ اور القاعدہ بھی شامل ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ ’دوطرفہ ملاقات کے بعد انڈیا کا خیال یہ ہے کہ القاعدہ کے ساتھ طالبان حکومت کے تعلقات اسامہ بن لادن کے وقت جیسے نہیں ہیں۔‘

عبداللہ عبداللہ نے انڈیا اور طالبان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے میں اپنے کردار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

اس دوران طالبان حکومت نے ایک کمیشن کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی طالبان کے وزیر معدنیات اور پیٹرولیم شہاب الدین دلاور کریں گے اور اس میں کابینہ کے متعدد ارکان شامل ہوں گے۔ اس کمیشن کا مقصد مختلف سیاسی شخصیات کی کابل واپسی کی راہ ہموار کرنا بتایا جاتا ہے۔