بھوپال: کتابیں خریدنے کے لیے گٹر میں جانے پر مجبور طالب علم جو کبھی واپس نہیں آئے

    • مصنف, شوریا نیازی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت

انڈین ریاست مدھیہ پردیش میں جھابوا کے رہائشی بھرت سنگھ کی عمر صرف 16 سال تھی اور وہ دسویں جماعت کے طالبعلم تھے۔ انھیں کچھ کتابوں کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی تو انھوں نے اپنے والد کے ساتھ محنت مزدوری شروع کر دی۔

پیر کو ان کی ہلاکت بھوپال کے ایک گٹر میں جانے کے بعد ہوئی۔ منگل کو بھرت کی آخری رسومات ان کے گاؤں میں ادا کی گئیں۔

ان کے والد شتان سنگھ بھوپال میں مزدوری کرتے تھے اور ان کی والدہ اپنے خاوند کے ساتھ کام کرتی تھیں لیکن مالی مسائل کی وجہ سے بھرت اپنے والد کے پاس آ گئے اور ان کے ساتھ کام کرنے لگے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ کام کر کے پیسے کما سکتے ہیں اور کتابیں خرید سکتے ہیں۔

شتان سنگھ کے بہنوئی ہکرو بھوریا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بھرت بڑے ہو کر ایک افسر بننا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ دل لگا کر پڑھتے تھے۔ لیکن کتابوں کی ضرورت نے انھیں کام کرنے پر مجبور کیا۔‘

بھرت کے والد اور ان کی والدہ انکیتا کنسٹرکشن کمپنی میں کام کرتے تھے جس کے پاس سیوریج کے تعمیراتی منصوبے ہیں۔ شتان سنگھ کے مطابق وہ دونوں کام کر رہے تھے جب سپروائزر انجینیئر دیپک سنگھ آئے اور بھرت کو اپنے ساتھ لے گئے۔

اس کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا مر چکا ہے۔ 13 دسمبر کے اسی حادثے میں انجینیئر دیپک سنگھ بھی ہلاک ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق بھرت پہلے گٹر میں داخل ہوئے لیکن زہریلی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے۔ دیپک انھیں بچانے گئے اور ان کے ساتھ بھی وہی ہوا۔ دونوں اس حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

گھر کے مالی حالات اچھے نہیں

بھرت کا تعلق ایک غریب گھر سے ہے۔ ان کی دو بہنیں اور ایک بھائی اسی گاؤں میں رہتے ہیں لیکن والدین بطور مزدور کام کرنے کے لیے بھوپال آئے تھے۔ بھرت ان تمام میں سب سے بڑے تھے۔ ان کے ایک بھائی کی عمر سات برس ہے اور وہ بہنیں آٹھ اور 10 برس کی ہیں۔ بھرت کی یومیہ اجرت 350 روپے تھی۔

بھرت کی موت پر ان کے والد بہت افسردہ تھے اور ان کے لیے بولنا بھی مشکل تھا۔ بھوپال میں ان کے پوسٹ مارٹم کے بعد یہ خاندان بھرت کی میت کے ساتھ جھابوا روانہ ہوگیا۔

ہکرو بھوریا نے مزید بتایا ہے کہ ’بھرت نے کئی خواب دیکھے تھے اور ان کے خاندان کو بھی لگتا تھا کہ وہ بہت اوپر جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی موت سے پورا خاندان ٹوٹ سا گیا ہے۔‘

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص 29 سالہ انجینیئر دیپک سنگھ گذشتہ تین برس سے اسی کمپنی کے ساتھ منسلک تھے۔ وہ اتر پردیش میں کاشی نگر کے رہائشی تھے اور صرف چھ ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی۔ ان کی اہلیہ گاؤں میں رہتی تھیں۔ دیپک کی ایک بہن اور ایک بھائی ہیں مگر وہ گھر میں سب سے بڑے تھے۔

دیپک کے انکل منشی سنگھ کہتے ہیں کہ ’ان کے والد گاؤں میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ دیپک زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بھوپال گئے تھے لیکن ان کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

واقعے کے بعد لوگوں نے اس کی اطلاع پہلی بار گاندھی نگر پولیس سٹیشن میں دی۔ کافی کوششوں کے بعد پولیس نے ان کی لاشیں رسی سے باندھ کر اوپر کھینچی تھیں۔

خیال ہے کہ سیویج چیمبر میں زہریلی گیس ہونے کے باعث وہ دم گھٹنے سے مرے۔ ریاست میں شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے وزیر بھوپیندر سنگھ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور 24 گھنٹوں میں اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔

اطلاعات ملنے پر وزیر نے پولیس کمشنر کو اس معاملے میں فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ حکومت نے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔

واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ سیویج پائپ لائن بچھانے کے لیے پیمائش کے دوران دونوں 5.9 میٹر گہرے مین ہول میں گر کر ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں اس مین ہول میں حفاظتی سامان کے بغیر داخل ہوئے اور زہریلی گیس کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ ’دونوں ملازمین حفاظتی سامان کے بغیر پائے گئے۔ بظاہر دونوں کو حفاظتی سامان میسر نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ واقعہ حفاظتی معیار نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔‘

بھوپال میونسپل کارپوریشن کے سنتوش گپتا کہتے ہیں کہ اس کام کی ذمہ داری انکیتا کنسٹرکشن کمپنی کے پاس تھی۔ ’سیویج لائن پر کام جاری تھا اور اسے میونسپل کارپوریشن کے حوالے نہیں کیا گیا تھا۔ کمپنی کے ساتھ اس کی نگرانی کے لیے 10 سال کا معاہدہ کیا گیا تھا۔‘

بھوپال میونسپل کارپوریشن نے کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور اس پر غفلت کا الزام لگایا ہے۔ مگر کمپنی کے مینیجر ویپل پٹیل کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہے۔ ’یہ حادثہ کن حالات میں پیش آیا اس پر ہمارے پاس فی الحال مکمل معلومات نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں کو اندر جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ پیمائش کے لیے اندر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس بارے میں ہمیں علم نہیں ہے۔‘

میونسپل حکام کا کہنا ہے کہ چیمبر ابھی فعال نہیں تھا لیکن قریبی گھروں سے پانی اس میں داخل ہوچکا تھا جو باہر آ رہا تھا۔ اس میں بارش کا پانی بھی جمع ہو چکا تھا۔ اس کی وجہ سے چیمبر میں زہریلی گیس بھر چکی تھی۔ لیکن فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ دونوں چیمبر میں اتر گئے تھے یا اس میں گِر گئے تھے۔

یہ ریاست میں ایسا پہلا کیس نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مزدور سیویج چیمبر میں گِر کر حادثات کا شکار ہوئے ہیں۔

سنہ 2017 میں دیواس میں چار افراد ایک سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی طرح رواں سال ستمبر میں ضلع سنگرولی سیور ٹینک کی مرمت کے دوران تین مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی دیکھیے