افغانستان میں طالبان: کابل میں عید گاہ مسجد کے قریب دھماکے میں کم از کم دو ہلاکتیں، متعدد زخمی

وقت اشاعت

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عید گاہ مسجد کے قریب میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم دو افراد کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

طالبان حکام نے کابل کی عید گاہ مسجد کے قریب دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’آج عید گاہ مسجد کے قریب دھماکہ ہوا جس میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔‘ تاہم انھوں نے اس دھماکے میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔

طالبان کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان قاری سعید خوستی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہماری ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔‘

جبکہ طالبان ذرائع نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کے دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 20 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان ذرائع نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو طالبان کے ترجمان اور وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ تین اکتوبر بروز اتوار کی دوپہر کابل کی عید گاہ مسجد میں ان کی والدہ کی وفات پر ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی جائے گی۔ جس میں انھوں نے اپنے تمام دوستوں اور عزیزوں کو آنے کی دعوت دی گئی تھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے دھماکے کی جگہ سے قریب موجود ایک مقامی دکاندار عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’ میں نے عید گاہ مسجد کے قریب دھماکے اور اس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دھماکے سے قبل طالبان نے سڑک کو بلاک کر دیا تھا تاکہ وہ عید گاہ مسجد میں ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کے ایصال ثواب کے لیے دعائیہ تقریب کروا سکیں۔‘

یاد رہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے دو ہفتے بعد ہی کابل کے ہوائی اڈے پر بھی دھماکہ ہوا تھا، جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان نے قبول کی تھی۔

اس دھماکے میں بچوں سمیت 200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے۔