آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اطالوی میرینز: انڈیا نے 2012 میں کیرالہ کی ساحل کے قریب مچھیروں کے قتل کا مقدمہ بند کر دیا
انڈیا کی سپریم کورٹ نے فروری 2012 میں دو انڈین ماہی گیروں کے قل کے الزام میں اٹلی کے دو میرینز کے خلاف فوجداری مقدمات بند کر دیے ہیں۔
پچھلے سال، ثالثی کی ایک بین الاقوامی عدالت نے کہا تھا کہ سالواٹور جیرون اور میسیمیلیانو لاٹورے قانونی چارہ جوئی سے استثنعیٰ کے مستحق ہیں۔
لیکن پینل نے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ انڈیا معاوضے کے دعوے کا حق رکھتا ہے۔
انڈین حکومت نے عدالت کے اس حکم نامے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور انڈیا کی اعلیٰ عدالت سے درخواست کی کہ زیرِ التوا مقدمات بند کر دیے جائیں۔
عدالت نے اپریل میں کہا تھا کہ مقدمات صرف اسی وقت بند ہوں گے جب اٹلی معاوضے کی 13 لاکھ ڈالر کی رقم ادا کرے گا، جیسا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پایا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے
دو ججوں کے بنچ نے منگل کو کہا کہ وہ اطالوی حکومت کی طرف سے ادا کیے جانے والے معاوضے سے مطمئن ہے۔
لیکن اس ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے روم اور دہلی کے درمیان برسوں پرانے تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2012 میں یہ دونوں میرینز انڈیا کی جنوبی مغربی ریاست کیرالہ کے ساحل کے قریب ایک اطالوی آئل ٹینکر کی حفاظت کر رہے تھے جب انھوں نے ماہی گیروں کی کشتی پر فائرنگ کی۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ مچھیرے نہیں بلکہ بحری قذاق تھے۔ اٹلی یہ کہتا رہا ہے کہ گولیاں اس وقت چلیں جب مچھیروں نے تیل کے جہاز ایم اینریکا لیکسی کے نزدیک نہ آنے کی وارننگ کو نظر انداز کیا۔
لیکن 2012 میں انڈین حکام نے میرینز کو گرفتار کر لیا اور ان پر قتل کا مقدمہ چلایا۔ تاہم انڈیا نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو انھیں سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
جب مقدمہ ابھی زیرِ التوا تھا تو ان دونوں میرینز کو کچھ سالوں تک انڈیا میں رکھنے کے بعد اٹلی واپس بھیج دیا گیا۔ لاتورے 2014 میں واپس گئے جبکہ جیرون 2016 میں۔
میرینز کو جیل بھیجنے کی وجہ سے اٹلی اور انڈیا کے درمیان سفارتی جھگڑا شروع ہو گیا اور 2015 میں دونوں ممالک اس مقدمے کو ہیگ میں قائم پرماننٹ کورٹ آف آربیٹریشن (پی سی اے) میں لے گئے۔
گذشتہ سال جولائی میں پی سی اے نے کہا کہ انڈیا میں مقدمے سے میرینز کو استثنیٰ حاصل ہے، لیکن ان پر اٹلی میں مقدمہ چلایا جانا چاہیئے۔
روم کا بھی یہی کہنا تھا کہ گولی بین الاقوامی پانیوں میں چلی ہے اس لیے دونوں میرینز پر اٹلی میں مقدمہ چلنا چاہیئے۔ لیکن انڈیا کا کہنا تھا کہ وہ اس کے دائرہ کار میں تھا۔
تاہم پی سی اے نے اٹلی کو حکم دیا کہ وہ انڈیا کو جانوں کے زیاں، جسمانی چوٹوں، کشتی کو نقصان اور کشتی کے کمانڈر اور عملے کو پہنچنے والے اخلاقی نقصان کا ہرجانہ دے۔