آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران کی ’اینجلینا جولی‘ کو جیل سے رہائی کی امید
ایک سال سے قید ایرانی انٹرنیٹ سلیبریٹی فاطمہ خوشوند نے ایرانی خبر رساں ادارے روکنا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ انھیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن امید ہے کہ وہ اپیل پر جلد بری ہو جائیں گی۔
دوسری جانب فاطمہ کے وکیل سعید دہغان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے یہ خبر بھی سنی ہے لیکن ابھی وکلا کے پاس کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
فاطمہ خوشوند 'سحر طبر' کیسے بنیں؟
سحر طبر کے نام سے جانے جانے والی فاطمہ خوشوند کی عمر 18 سال تھی جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھیں گرفتار کرنے کا حکم تہران کی گائیڈنس عدالت نے دیا تھا لیکن بعد میں یہ معاملہ تہران کی انقلابی عدالت کے حوالے کردیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر مقبولیت کے باعث سحر کی گرفتاری کی خبر مقامی اور غیر ملکی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوئی اور سوالات ہوئے کہ صرف ایک میک اپ کیے ہوئے چہرے کی تصویر پر انھیں کیوں حراست میں لیا گیا؟
حراست میں لیے جانے کے دو ہفتے بعد سحر کے 'اعترافی بیان' کو ایرانی ٹی وی پر چلایا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی ہمیشہ خواہش تھی مشہور ہونے کی اور فلم 'برائیڈ آف دا ڈیڈ' کو دیکھنے کے بعد ان میں چہرے کی سرجری، میک اپ اور فوٹو شاپ کرنے کا خیال آیا ہے۔
اس مقدمے میں وکلا نے ان 'اعترافات' کی نشریات پر اعتراض کیا تھا۔
روکنا نے جیل کے دوران ہی ان کے بارے میں ایک فلم نشر کی جس میں بتایا گیا کہ ان کے والدین الگ ہوگئے تھے اور دسویں جماعت تک تعلیم حاصل نہیں کی تھی یا ڈپلومہ نہیں لیا تھا۔
فاطمہ پر لگائی گئی فرد جرم کے مطابق ان پر فساد فی الارض میں مدد دینے، نوجوانوں کو زنا کرنے کی ترغیب دینے، حجاب کی توہین کرنے، مقدس چیزوں کی توہین کرنے اور ناجائز طریقے سے دولت کے حصول کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جمعے کو روکنا کے ساتھ ایک انٹرویو فاطمہ خوشوند نے کہا کہ وہ دو الزامات سے بری ہوگئیں لیکن یہ نہیں واضح کہ وہ الزامات کون سے تھے۔
ایران کی ’انجلینا جولی'
میڈیا میں بہت سے لوگوں نے انھیں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی قرار دیا کیونکہ سرجری کے بعد ان کے چہرے کی ہلکی سے شباہت امریکی اداکارہ سے ملتی تھی لیکن ان کی بہت سی دیگر تصاویر میں ان کے چہرے کو مزید مبالغہ آرائی کے لیے فوٹو شاپ کر دیا گیا ہے۔
فاطمہ خوشوند کے وکلا کہتے ہیں کہ انھیں ذہنی بیماریوں کے مختلف مرض ہیں اور انہیں انتہائی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے اور 'ان پر جن چیزوں کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ اس وقت قانونی طور پر بالغ نہیں تھیں۔'
سعید دہغان نے کہا کہ فاطمہ کے بارے میں میں دستیاب تمام دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بلوغت سے کئی سال قبل ہی 'ڈپریشن اور سائیکوسس' میں مبتلا تھیں اور ماضی میں اسی لیے انھیں علاج کی غرض سے ہسپتال میں بھی داخل کروایا گیا تھا۔