افغانستان کے صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ ’ریکارڈ حد تک کم‘

وقت اشاعت

افغانستان کے الیکشن کمیشن کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح ملک میں سنہ 2001 میں طالبان کے دورے کے خاتمے کے بعد اب تک ہونے والے انتخابات میں سب سے کم رہی۔

ابتدائی سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک کے رجسٹرڈ 96 لاکھ ووٹروں میں سے صرف 25 فیصد نے ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

اگر ان اعدادوشمار کی تصدیق کی جاتی ہے تو یہ ملک میں ہونے والے گذشتہ تین صدارتی انتخابات کے مقابلے میں سب سے کم شرح ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2004 میں افغانستان میں ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح 70 فیصد تھی۔ 2009 میں اس میں ایک تہائی کمی ہوئی جبکہ 2014 میں یہ پھر بڑھ کر دگنی ہو گئی تھی۔

2019 کا جو ابتدائی ڈیٹا موصول ہوا ہے وہ چار ہزار میں سے 3736 پولنگ مراکز کا ہے۔ ان مراکز میں 21 لاکھ 90 ہزار ووٹ شمار کیے گئے اور اگر یہ رجحان برقرار رہا تو حتمی شرح 25 فیصد کے لگ بھگ ہو گی۔

افغان الیکشن کمیشن تین ہفتوں میں صدارتی انتخاب کے نتائج کا اعلان کرے گا۔ اس انتخاب میں دو مرکزی امیدوار موجودہ افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہیں جو دونوں سنہ 2014 سے اقتدار میں شراکت دار ہیں۔

صدارتی انتخاب میں ووٹروں کی تعداد میں کمی کی وجہ ملک میں سلامتی اور تحفظ کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان نے انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی جس کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور 70,000 سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود پولنگ مراکز پر بم اور مارٹر حملوں میں الیکشن کے دن کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔

'کم خواتین ووٹرز نے حصہ لیا'

افغان میں صدارتی انتخابات کے دوران کم ووٹر ٹرن آؤٹ، بالخصوص خواتین ووٹرز کی کمی، پر بی بی سی نے افغان امور کی ماہر شبنم حسن خان سے بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں کل 5,000 پولنگ سٹیشنز ہیں جن میں سے 2,500 پولنگ سٹیشن کے ووٹ گنے جا چکے ہیں۔

’تقریباً 15 لاکھ لوگوں نے ان 2,500 پولنگ سٹیشنز میں ووٹ ڈالے۔ ان میں خواتین کی تعداد 35 فیصد بتائی گئی ہے جو گذشتہ انتخابات کے مقابلے کم دکھائی دے رہی ہے۔‘

اس کی مختلف وجوہات پر بات کرتے ہوئے شبنم حسن نے کہا کہ سکیورٹی کے مسائل، بائیو میٹرک مشین کا استعمال اور پولنگ سٹیشنز میں خواتین کارکنوں کی کمی بھی تھی۔

’سکیورٹی کا مسئلہ مرد و خواتین دونوں کے لیے تھا۔ دوسرا مسئلہ ووٹ ڈالنے کے لیے بائیو میٹرک مشین کا استعمال تھا جس میں ووٹر کی تصویر اتارنے کو لازم قرار دیا گیا تھا۔ اس سے کافی خواتین کو مسئلہ پیش آیا (کیونکہ) وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ووٹنگ کے دوران ان کی تصویر اتاری جائے۔‘

ان کے نزدیک ایک اور مسئلہ ’پولنگ سٹیشنز میں خواتین عملے کی کمی تھی جبکہ مرد عملہ زیادہ تھا۔ اس کی وجہ سے کئی خواتین اپنی رائے دینے پولنگ سٹیشنز نہیں آئیں۔‘

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سنیچر کو ہونے والے صدارتی اتنخاب میں ایک بھی خاتون امیدوار نے حصہ نہیں لیا۔

لیکن کچھ ایسی خواتین بھی تھیں جو خطرات کے باوجود ووٹ ڈالنے آئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرزسے بات کرتے ہوئے ایک خاتون ووٹر نے کہا 'وہ ووٹ ڈالیں گی چاہے انھیں گھنٹوں تک لمبی قطار میں ہی کیوں نہ کھڑا ہونا پڑے۔‘

کابل میں مقیم ڈاکٹر زویا جہانگیر نے کہا 'بہادری اسے کہتے ہیں کہ آپ افغانستان میں رہتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی ہمت پیدا کریں۔‘

’ہم امید کرتے ہیں کہ اس مرتبہ کوئی فراڈ نہیں ہو گا، ورنہ لوگوں کو محسوس ہو گا کہ انھیں پھر دھوکہ دیا گیا۔‘

انتخابات کے دوران ماحول کیسا رہا؟

افغان انتخابات میں ووٹنگ کے دوران طالبان کی جانب سے پولنگ سٹیشنز پر حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تاہم شبنم حسن سمجھتی ہیں کہ مجموعی طور پر ماحول بہتر تھا۔

’انتخابات سے قبل لوگوں کو لگ رہا تھا کہ ماحول صحیح نہیں رہے گا کیونکہ طالبان نے لوگوں کو دھمکیاں دی تھیں کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ امید کی جا رہی تھی کہ پولنگ سٹیشنز پر دھماکے ہوں گے لیکن توقع کے خلاف انتخابات پُرامن ماحول میں گزرے، سوائے کچھ پولنگ سٹیشنز کے جہاں واقعات پیش آئے اور کچھ جانیں بھی گئی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ طالبان کی تنبیہ کے باوجود افغانستان کے لوگ اپنی رائے کے اظہار کے لیے پولنگ سٹیشنز گئے اور اپنا قانونی حق استعمال کیا۔

’افغانستان میں لوگوں نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور طالبان کے مظالم کے باوجود اپنے اس حق کو استمعال کریں چاہے ان کی جان بھی خطرے میں کیوں نہ ہو۔‘

شبنم حسن کہتی ہیں کہ افغانستان کے لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ ’وہ کبھی بھی اپنا قانونی حق اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ وہ جمہوریت کے دفاع کے لیے ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔‘