فاٹا طالب علم رہنما کی گرفتاری کے بعد احتجاجی مہم

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

پاکستان میں قبائلی طلبہ کی تنظیم فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ایف ایس او) نے تنظیم کے مرکزی صدر شوکت عزیز کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ پشاور کو خبردار کیا ہے کہ اگر مرکزی صدر کو فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے رہا نہیں کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک پھیلا دیا جائے گا۔

اتوار کو فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درجنوں طلبہ نے پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس پر مرکزی صدر کی فوری رہائی اور 'گو ایف سی آر گو' کے نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقعے پر ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔

قبائلی طلبہ نے مرکزی صدر کی رہائی تک پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ بھی قائم کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایف ایس او کے مرکزی صدر شوکت عزیز کو دو دن پہلے پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے تین ایم پی او یعنی امن عامہ میں خلل ڈالنے کے جرم میں گرفتار کر لیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور ریاض محسود نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ قبائلی طالب علم کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالب علم رہنما کو ایک دوسرے طالب علم کو قتل کی دھمکیاں دینے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

ادھر دوسری طرف ایف ایس او کی مرکزی جنرل سیکریٹری ثمرینہ خان وزیر کا کہنا ہے کہ شوکت عزیز کو چند دن پہلے فاٹا سیکریٹریٹ کی طرف سے فاٹا اصلاحات کے ضمن میں پشاور میں منعقدہ ایک پروگرام میں ایف سی آر قانون کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس پروگرام میں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر بھی شریک تھے۔ تاہم بدنظمی کی وجہ سے یہ پروگرام پہلے ہی ختم کردیا گیا تھا جبکہ گورنر اور سیپکر شرکا سے خطاب کیے بغیر پروگرام سے چلے گئے تھے۔

بعد میں اس پروگرام کے وڈیوز سماجی رابطوں کے ویب سائٹوں پر بھی شائع کیے گئے تھے جس میں قبائلی ملک اور طلبہ آپس میں لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ثمرینہ خان نے الزام لگایا کہ مرکزی صدر کو ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں بلا کر وہاں سے گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ان کے سامنے شرط رکھی گئی کہ یا تو وہ آئندہ سے ایف سی آر کے خلاف مہم سے دور رہیں گے یا پھر گرفتاری کے لیے تیار ہو جائیں اور جب شوکت عزیز نے انکار کیا تو انھیں اسی وقت دفتر ہی سے حراست میں لے لیا گیا۔

ان کے مطابق مرکزی صدر شوکت عزیز کو کچھ عرصہ سے ٹیلی فون پر دھمکیاں آمیز کالیں بھی موصول ہوتی رہی ہیں جس میں ان سے ایف سی آر کے خلاف مہم سے دور رہنے کا کہا گیا جبکہ بعض قبائلی عمائدین کی جانب سے ان کو قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر شوکت عزیز کو فوری طورپر رہا نہیں کیا گیا تو کل سے احتجاج کا دائرہ پورے ملک تک بڑھا دیا جائے گآ جس کے تحت کل اسلام اباد اور پیر کو لاہور میں تنظیم کی طرف سے احتجاج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن قبائلی طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیم ہے جس کی شاخیں تمام بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں موجود ہیں۔ تنظیم کے مرکزی صدر شوکت عزیز کا تعلق کرم ایجنسی سے بتایا جاتا ہے۔

اس تنظیم نے قبائلی علاقوں میں ایک صدی سے زائد عرصہ سے رائج قانون فرنٹیر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کے خلاف بھرپور مہم چلائی ہے۔

تاہم بیشتر حکومتی حامی قبائلی ملک، مشران، عمائدین اور قبائلی اعلی افسران جس میں پولیٹکل ایجنٹس قابل ذکر ہیں، اس قانون کے حق میں ہیں۔

حالیہ فاٹا اصلاحات میں بھی اس قانون کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔