Friday, 06 February, 2009, 19:23 GMT 00:23 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا ہے کہ ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستان اپنی تحقیقاتی رپورٹ تین چار روز میں شائع کردے گا اور اس سلسلے میں پوری دنیا کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو لاہور ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
یوسف گیلانی نے کہا کہ انڈیا نے جو ڈوسئر دیا ہے اس کے بارے میں پاکستان اپنی معلومات آئندہ پیر یا منگل کو شائع کر دے گا۔ یہ معلومات پوری دنیا پر واضح کردی جائیں گی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی جائے گی اور یہ بتایا جائے گا کہ حقائق کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوئی بات نہ تو چھپانا چاہتا ہے اور نہ ہی یہ چاہتا کہ اس کی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تنہا نہیں ہے اور پوری دنیا ان کے موقف کی حمایت کرتی ہے وہ ممبئی حملوں کو غلط سمجھتے ہیں اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے اس بیان سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان اپنی تحقیق کی رپورٹ صرف انڈیا کے حوالے نہیں کرے گا بلکہ اسے پوری دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشیر داخلہ رحمان ملک اور وزیر قانون فاروق نائیک کے درمیان اس رپورٹ کے حوالے سے ایک اہم ملاقات ہوئی ہے
جس میں اسکے مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کیا پاکستان کے لیے اپنے انسداد دہشت گردی ایکٹ
میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔
|
رچرڈ ہالبروک کے بارے میں کنفویژن
|
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیدار رچرڈ ہالبروک نوفروری کو پاکستان آ رہے ہیں وہ انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کنفویژن ہے کہ وہ پورے خطے کے معاملات دیکھیں گے یا انہیں افغانستان اور پاکستان تک محدود کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہ کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں پورے خطے کے معاملات کے لیے مقررکیا جائے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان نے بےنظیر بھٹو کی ہلاکت پر اس لیے کوئی تفتیش نہیں کہ کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ کیس خراب اور متنازع ہوجائے انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی وصیت اور پارلیمان کی قرارداد کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ ہی اس معاملے کی تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ کو جو بھی مینڈیٹ ملے گا اور اسی کے مطابق تحقیق کرےگی۔