Saturday, 31 January, 2009, 00:32 GMT 05:32 PST
پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے سلسلے میں ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جن کی تفصیل سے بھارت اور باقی دنیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تفتیش ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے جو بھارت نے پاکستان کو مہیا کی تھیں۔
جمعہ کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ابتدائی رپورٹ مرتب کرکے وزارت قانون کے سپرد کر دی ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے، اے پی پی، کے مطابق پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ وزارت قانون کی طرف سے جائزہ لیے جانے کے بعد اس ابتدائی رپورٹ کی تفصیلات سے بھارت اور باقی دنیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
گزشتہ روز برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے کہا تھا کہ پاکستانی تحقیقات سے لگتا ہے کہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان یا برطانیہ میں نہیں کی گئی تھی۔
نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے حملوں میں ایک سو ستّر سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے ان حملوں کی ذمہ داری پاکستان میں کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ پر عائد کی تھی۔ جس کے بعد پاکستان میں کئی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔
مسٹر قریشی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت اور عالمی برادری کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت کر رہا ہے اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دلی میں پاکستانی ہائی کمِشنر شاہد ملک نے بھارت وزیرداخلہ پی چیدمبرم سے جمعہ کے روز ملاقات کرکے تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔
تاہم گزشتہ روز ہی بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ بھارت نے تفتیش کے لیے پاکستان کو جو ڈوسیئر فراہم کیا تھا اس کے بارے میں پاکستان کی طرف سے اسے اب تک کوئی باضابطہ جواب نہیں ملا ہے۔
پاکستانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے وہ جرمنی کے شہر میونِخ میں سکیورٹی کے بارے میں ہونے والی ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور انتہائی پسندی اور دہشتگردی کے بارے میں پاکستانی موقف سے شرکاء کو آگاہ کریں گے۔
اس کانفرنس میں اسّی ملکوں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ دیگر راہنماؤں کے علاوہ امریکی صدر باراک اوبامہ کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔