Wednesday, 21 January, 2009, 09:45 GMT 14:45 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے ممبئی حملہ آوروں کے ساتھ تعلق کے الزام میں بعض شدت پسندوں کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمات چلائے جانے کی صورت میں ممکنہ عوامی رد عمل کو روکنے کے لئے سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے روابط شروع کر دیے ہیں۔
ایک اعلٰی حکومتی شخصیت نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض ’مشتبہ‘ افراد کے خلاف ان مقدمات کے دوران عوامی ردعمل کو ’محدود‘ رکھنے کی یہ حکومتی کوششیں بہت حد تک کامیاب رہی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس مجوزہ عدالتی کارروائی کی حمایت کے لئے حکومتِ پاکستان نے ملک میں سیاسی اور مذہبی تنظیموں میں اثر و رسوخ رکھنے والی غیر ملکی شخصیات کی مدد بھی حاصل کی ہے۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سعودی حکومت کے نمائندے کے طور پر شاہ عبداللہ کے چھوٹے بھائی اور سعودی انٹیلی جینس کے سربراہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران ان دونوں غیر ملکی شخصیات نے اسلام آباد میں پاکستان کے بعض سیاسی رہنماؤں اور کچھ کالم نویسوں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے ممبئی حملوں کی عدالتی کارروائی شروع کرنے پر اسکی حمایت کرنے کی درخواست کی۔
ایسی ہی ایک ملاقات میں موجود اردو کے ایک کالم نویس اور ٹیلی وژن پروگرام کے میزبان جاوید چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے ان سمیت اسلام آباد کے پانچ صحافیوں کے ساتھ اس موضوع پر تبالہ خیال کیا۔
’برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی خطے میں امن کے لئے ضروری ہے اور اسی عمل کے شفاف ہونے پر پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے۔‘
ان ملاقاتوں کے نتائج جاننے کے لئے گزشتہ اختتام ہفتہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ کے قائد
نواز شریف سے انکے رائے ونڈ فارم پر ملاقات بھی کی تھی۔
|
کوئی اعتراض نہیں
|
’ہماری جماعت کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف شفاف طریقے سے ہونے والی عدالتی کارروائی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘
احسن اقبال نے کہا کہ ایک ذمہ دار ملک کی طرح ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہم دہشت گردی کی کارروائیوں کو چاہے وہ کہیں بھی کی جارہی ہوں ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ سعودی شہزادے مقرن بن عبدالعزیز کے شریف خاندان سے خاصے قریبی روابط ہیں اور دو سال قبل جب نواز شریف پرویز مشرف کے ساتھ ہونے والے جلا وطنی کے مبینہ معاہدے کی خلاف ورزی کر کے لندن سے پاکستان پہنچے تھے تو شہزادہ مقرن ہی انہیں واپس سعودی عرب لے جانے کے لئے پاکستان آئے تھے۔
شدت پسند تنظیموں کے خلاف ممکنہ مقدمات کے حوالے سے یہ ابھی حتمی طور پر طے نہیں ہو سکا کہ ممبئی حملوں کے الزام میں کن افراد پر مقدمہ دائر کیا جائے گا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات کھلی عدالت میں چلائے جائیں گے۔
بھارتی حکومت نے جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کی مرکزی قیادت کے علاوہ جیش محمد کے بعض اہم رہنماؤں کو ممبئی حملوں میں ملوث قرار دیا ہے۔
تاہم جو دستاویز اور گفتگو کی ریکارڈنگ سمیت دیگر مواد، امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کے توسط سے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو فراہم کیا گیا ہے اس میں ذکی الرحٰمن لکھوی کا نام ان حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں سب سے اوپر بتایا جا رہا ہے۔ اسکے علاوہ بھارتی حکام نے لشکر طیبہ ہی سے تعلق رکھنے والے ضرار شاہ کو ان حملوں کا اصل منصوبہ ساز قرار دیا ہے۔
تاہم پاکستانی حکام کا اصرار ہے کہ ابھی تک جو کچھ بھی ان کے سامنے آیا ہے وہ ذکی الرحمٰن لکھوی کو عدالت سے سزا دلوانے کے لئے
کافی نہیں ہے۔
|
مستقبل کا دارومدار
|
اسکے علاوہ ضرار شاہ نامی کوئی شحض بھی لشکر طیبہ کا اہم رکن نہیں ہے جیسا کہ بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستانی ادارے قاری ضرار نامی ایک شخص سے واقف ہیں جن کا تعلق مولانا مسعود اظہر کی تنظیم جیش محمد سے بتایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش میں صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بعض دیگر ممالک کی سرزمین بھی استعمال ہوئی تھی۔
مشیر داخلہ رحمٰن ملک نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ بھارت سے ملنے والے مواد کی روشنی میں ہونے والی تحقیقات کے لئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے تین سینیئر افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن اٹھائیس جنوری تک اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے جس تیز رفتاری کے ساتھ ایف آئی اے کے افسران اس واقعہ کی رپورٹ تیار کر رہے ہیں اس کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض افراد کے خلاف یہ مقدمہ فروری کے مہینے میں شروع ہو سکتا ہے۔