Friday, 09 January, 2009, 07:02 GMT 12:02 PST
امریکی ذرائع کے مطابق پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی کے دوران القاعدہ کی شدت پسند کارروائیوں کے نگراں اور ان کے ایک اعلیٰ معاون ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں کے مطابق اسامہ الکنی اور ان کے ساتھی شیخ احمد سلیم السوئدان حالیہ دنوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں کا تعلق کینیا سے تھا اور ان کا نام امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ ان پر انیس سو اٹھانوے کو تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق پاکستان میں حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں یکم جنوری کو مبینہ امریکی میزائل حملے میں القاعدہ کے دو اہم رہنماء ہلاک ہوگئے تھے تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جارہی ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دونوں افراد افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوسی طیارے سے فائر کیے گئے ایک میزائیل کا نشانہ بنے ہیں۔
اسامہ الکنی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ستمبر 2008 میں اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے بم حملے کے منصوبہ سازوں میں سے تھے۔
گزشتہ سال ستمبر میں دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوئے ایک ٹرک میریئٹ ہوٹل سے جا ٹکرایا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم پچپن افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ دونوں افراد پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب جنوبی وزیرستان میں ہلاک ہوئے۔
واشنگٹن پوسٹ نے بھی انٹیلجنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ یکم جنوری کو میزائیل حملہ میں ہلاک ہوئے۔