http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 08 January, 2009, 09:11 GMT 14:11 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

سوات کئی ہفتوں بعد پرسکون

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں کئی ہفتوں کے بعد جمعرات کو پہلی مرتبہ کہیں سے بھی کسی قسم کی کوئی لاش ملی ہے اور نہ ہی آخری اطلاعات تک تشدد کا کوئی اور واقعہ رونماء ہوا ہے۔

سوات کے مختلف علاقوں سے گزشتہ تین ہفتوں سے ہر روز اوسطاً چار لاشیں مل رہی تھیں اور اس دوران ایک اندازے کے مطابق تقریباً سینتیس افرادکی نعشیں ملی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو صدر مقام مینگورہ اور طالبان کا مبینہ طور پر گڑھ سمجھے جانے والی تحصیلوں مٹہ، خوازہ خیلہ، کبل اور آس پاس کے علاقوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انہیں کسی کی پھینکی گئی کوئی لاش ملی ہو۔

ان کے بقول ان میں سے زیادرہ تر لاشیں صدر مقام مینگورہ سے ہر روز ملا کرتی تھیں مگر بدھ کی رات کو دس بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو کے نفاذ اور دن کے وقت سکیورٹی فورسز کی جانب سے دوبارہ گشت شروع کیئے جانے کے بعد لوگوں کو قتل کرکے انکی لاشیں مختلف چوراہوں پر پھینکنے کا سلسلہ گزشتہ دو دن سےبند ہوچکا ہے۔

اس کے علاوہ سوات کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے درمیان جھڑپیں معمول کا حصہ بن گئی تھیں مگر علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کی سہ پہر تک فریقین کے درمیان کسی قسم کی کوئی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔