Thursday, 08 January, 2009, 11:03 GMT 16:03 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
ایوان صدر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ روز قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی کی برطرفی میں صدر آصف علی زرداری سے مشاورت شامل تھی۔ تاہم تازہ ملکی صورتحال پر دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ملاقات عاشورہ کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی ہے۔
ادھر برطرف کئے جانے والے مشیر میجر جنرل ریٹائرڈ محمود علی درانی نے بی بی سی اردو سروس سے اس موضوع پر مزید بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بابت بہت کچھ کہہ چکے ہیں اور مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ’میری طرف سے معذرت’ کہتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔
ادھر صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے صدر اور وزیر اعظم کے درمیان آج ملاقات
کا ارادہ تھا تاہم یوم عاشورہ کی وجہ سے اب یہ ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔
|
|
پاکستان نے کافی تاخیر کے بعد گزشتہ روز ممبئی حملوں میں ملوث واحد بچ جانے والے مبینہ حملہ آور اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر دی تھی۔ تاہم وزیر اعظم نے انہیں اس بابت باخبر نہ رکھنے کے الزام میں اس اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر محمود علی درانی کو برطرف کر دیا تھا۔
مشیر کے عہدے سے برطرف ہونے کے بعد ایک خبررساں ادارے رائٹرز کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمود درانی نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق کر دی تھی جس کے بعد ہی انہوں نے اس کا اعلان کیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وزیر اعظم کی لاہور میں موجودگی کی وجہ سے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا جاسکا تھا۔
’خفیہ اداروں نے اس کی تصدیق کی اور مجھے اس بارے میں آگاہ کیا۔ تاہم لاہور میں ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم کو مطلع نہیں کیا جاسکا تھا۔ وہ لاعلم تھے لہذا انہوں نے اپنا اختیار واضح کرنے کی خاطر برطرفی کا قدم اٹھایا۔’
محمود درانی کے خیال میں اجمل قصاب کی شہریت کی تصدیق سے بھارت کے ساتھ کشیدگی میں کمی آسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہ کیا جو امن کے لیئے بہتر تھا انہیں اس کا کوئی ملال نہیں ہے۔ ’اب آپ بھارت کو کہہ سکتے تھے کہ ہم نے تصدیق کروا لی ہے لہذا اب حقائق ہمیں معلوم ہیں اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔‘
پاکستان ریاستی اداروں کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتا رہا ہے تاہم وہ ماضی میں کہہ چکا ہے غیرریاستی عناصر کا ہاتھ اس میں ہوسکتا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اب حکومت کو اجمل قصاب کے نیٹ ورک تک پہنچانا ہوگا۔
ادھر پاکستانی میڈیا میں محمود علی درانی کی جگہ نئی تقرری کے بارے میں کئی نام سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ان میں سابق صدر پرویز مشرف کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔