Tuesday, 30 December, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کا اقرار کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو تناؤ میں مزید کمی کے لیے دو تجاویز پیش کی ہیں۔
منگل کو ٹی وی پر دیے گئے ایک پالیسی بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے کا ماحول سازگار بنانے کے لیے اگر بھارت اپنی فضائیہ
کی فارورڈ بیسز کو غیر فعال کردے اور زمینی افواج کو زمانہ امن کی پوزیشن پر لے جائے تو دونوں ممالک میں کشیدگی مزید کم ہوجائے
گی اور یہ بہت بڑا مثبت اشارہ ہوگا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امن کا عمل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور دباؤ ڈالنے سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور ان قوتوں کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے یہ حملہ کرکے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں ہونے والے اقدامات سے کشیدگی کم ہوئی ہے۔
’دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے رابطے اور صدر آصف علی زرداری اور امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کی بات چیت سے بھی کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔‘
مسٹر قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کی جانب سے پاکستان کو کوئی الٹیمیٹم نہ دینے کا بیان مثبت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کے بیان میں ممبئی حملوں کے بارے میں ثبوت پاکستان کو تاحال نہ دینے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے اپنے مختصر بیان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے چین کے کردار کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کے آداب سیکھنے ہوں گے۔