Friday, 26 December, 2008, 12:07 GMT 17:07 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے کنٹینر پر پہلی مرتبہ ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
خود کو حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان کا ترجمان ظاہر کرنے والے سیف اللہ خراسانی نامی شخص نے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ جب تک قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملے بند نہیں ہوتے تب تک وہ نیٹو فورسز کی سپلائی کاٹتے رہیں گے۔
خراسانی نے بتایا کہ تین دن قبل خیبر ایجنسی میں تختہ بیگ کے علاقے میں نیٹو فورسز کے کنٹینر پر حملہ کر کے گاڑی میں موجود تمام سامان پر قبضہ کر لیا گیا جبکہ ڈرائیور اور کلینر کو یرغمال بنالیا گیا۔
انہوں نے دھمکی دی کہ اگر قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملے بند نہیں ہوئے تو وہ نیٹو کو سامان رسد لے جانے والی گاڑیوں پر مزید حملے کریں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کے حکومت کے ساتھ شمالی وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے برقرار ہیں تاہم صوبہ سرحد کے اضلاع میں تمام معاہدے ٹوٹ چکے ہیں۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے طالبان نے خیبر ایجنسی میں کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے پہلے حافظ گل بہادر گروپ کے اتحادی ملا نذیر گروپ نے ڈیرہ اسمعیل خان پر راکٹ حملے کر کے اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔
ملا نذیر گروپ کے ایک کمانڈر مالنگ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وانا میں امریکی جاسوس طیاروں کے مسلسل حملوں کے بدلے میں ان کے گروپ نے حملے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں مزید حملے کرینگے۔