Thursday, 25 December, 2008, 09:27 GMT 14:27 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے پندرہ جنوری کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف متعدد مکانات گولوں کا نشانہ بنے ہیں جس کے نتیجے میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طالبان کے ایک مقامی رہنماء مولانا شاہ دورن نے اپنے’غیر قانونی‘ ایف ایم پر اعلان کیا ہے کہ پندرہ جنوری کے بعد لڑکیاں سکول نہ جائیں۔
طالبان ترجمان مسلم خان نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ انکی تنظیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ علاقے میں’شرعی نظام کے نفاذ‘ تک لڑکیوں کو سکول جانے نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق طالبان نے زیادہ تر سکولوں کو تباہ کردیا ہے اور جو باقی بچے ہیں ان میں مزید تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ مقامی طالبان نے سوات کے مختلف علاقوں میں ایک سو بیس سے زائد سکولوں کو تباہ کردیا ہے جن میں زیادہ تر لڑکیوں کے ہیں۔
دوسری جانب سوات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے بھاری توپخانوں سے تحصیل خوازہ خیلہ کے عالم گنج کےعلاقے کو نشانہ بنایا جس میں بعض گولے متعدد مکانا ت پر گرے ہیں جس میں دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
تاہم سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے رات کو کسی قسم کی کوئی گولہ باری نہیں کی ہے۔ ان کے بقول فوج کی طرح طالبان کے پاس بھی مارٹر گولے اور میزائل موجود ہیں اور ممکن ہے کہ یہ افراد انکے گولوں کا نشانہ بنے ہوں۔
سوات میں شہری آبادی کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خلاف جمعرات کو تقریباً دو ہزار مقامی افراد نے ایک مظاہرہ بھی کیا جس میں شکردہ، ننگولئی، ڈیرئی، برہ اور کوزہ بانڈے کے لوگوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے کانجو تک مارچ کیا اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں فوجی آپریشن جلد از جلد ختم کیا جائے اور شکر دہ میں مارے جانے والے افراد کی لاشیں انکے حوالے کی جائیں۔