Friday, 12 December, 2008, 15:35 GMT 20:35 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد میں جماعت الدعوۃ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس نے ان کے چھیالیس دفاتر کو سیل کر کے ایک سو پچاس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
جبکہ صوبائی حکومت نے جماعت کے دس دفاتر کو سربمہر کرنے اور آٹھ کارکنوں کے گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
پشاو ر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ سرحد کے ترجمان عتیق چوہان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جماعت الدعوۃ پر پابندی کے بعد صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں ان کے چھیالیس دفاتر کو سیل اور ایک سو پچاس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرحد میں جماعت کے مزید کارکنوں کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
عتیق چوہان نے کہا کہ ملک بھر میں جماعت الدعوۃ کے ساڑھے چار ہزار دفاتر کو سیل کرکے جہاد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کے اندر موساد اور سی آئی اے کی سرگرمیاں جاری ہیں جس کی وجہ سے ملک کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
عتیق چوہان نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کا کسی عسکری پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور وہ سلامتی کونسل کے فیصلہ کے خلاف پرامن احتجاج ریکارڈ کریگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ پر اس لئے پابندیاں لگائی جارہی ہے کیونکہ وہ امریکہ اور بھارت کی سازشوں کے خلاف اٹھ رہی ہے۔
دوسری طرف صوبہ سرحد میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کاروائیوں میں ان کے دس دفاتر کو سربمہر کردیا گیا ہے جبکہ ان کے آٹھ کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سرحد حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کاروائیوں میں جماعت الدعوۃ کے پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ہری پور، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں دفاتر کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ آن کے اٹھ کارکنوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔