Thursday, 11 December, 2008, 03:35 GMT 08:35 PST
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک پاکستانی عسکری تنظیم کے چار رہنماؤں کے نام اس فہرست مں شامل کر لیے ہیں جن میں وہ لوگ یا تنظیمیں شامل ہیں جن پر القاعدہ یا طالبان کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
چاروں پاکستانیوں کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے جس پر انڈیا نے گزشتہ ماہ ممبئی میں حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان چاروں میں حافظ محمد سعید، ذکی الرحمان لکھوی، حاجی محمد اشرف، محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں۔
حافظ سعید نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ جماعتہ الدعوۃ کے امیر ہیں اور کبھی بھی لشکر طیبہ کے امیر نہیں رہے جو ان کے مطابق الگ تنظیم ہے جس کا تعلق کشمیر سے ہے۔
سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی نے مختلف نام درج کیے جن سے اس کے مطابق لشکرطیبہ جانی جاتی ہے مثلاً جماعتہ الدعوۃ اور دو ایسی تنظیموں کا نام بھی درج کیا جو لشکر طیبہ کو فنڈ فراہم کرتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ ’اس کارروائی سے دہشتگردوں کے سفر کرنے، اسلحہ خریدنے اور نئے حملوں کے لیے وسائل جمع کرنا مشکل ہو گا‘۔
رائٹرز کے مطابق پابندیاں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کے تحت عائد کی گئی ہیں جس میں اثاثے منجمد کیے جاتے ہیں اور سفر پر پابندی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں انہی چاروں افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔