Tuesday, 09 December, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST
پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ ان کی سکیورٹی فورسز نے لشکر طیبہ کے چیف زکی الرحمن لکھوی اور جیش محمد کے چیف مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا ہے۔
ہندوستان کے ایک ٹی وی چینل سی این این ابی این سے ایک خصوصی بات چیت میں پاکستان کے وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
احمد مختار کا کہنا تھا’ لکھوی اور اظہر دونوں کو ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا ’ہندوستان اور امریکہ دونوں کا ہی کہنا ہے ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں لیکن وہ ثبوت ہم سے کیوں چھپائے گئے ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے پوری کارروائی کر رہا ہے ’ کوئی بھی ہماری نیت پر شک نہیں
کر سکتا ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے میں ہم اپنے پڑوسی کی کیسے مدد کر سکتے ہیں اس موضوع پر بھی ہماری بات چیت ہو چکی ہے۔ ہم ہندوستان
کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ممبئی حملوں میں مشترکہ تحقیق کافی مدد کرے گی۔‘
|
پاکستان کا موقف
|
انہوں نے یہ بھی دعوٰی کیا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہندوستانی سرحد پر کوئی تعیناتی نہیں کی گئی تھی۔
ادھر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں پاکستان نےاپنے سطح پر تحقیقات کرنے کےلیے کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اگر ضروری ہوا تو وہ پاکستان کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے خود ہندوستان جائیں گے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ملتان میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے قریشی نے کہا ’ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پاکستان ہندوستان کو پورا تعاون دے گا لیکن ان حملوں میں ملوث کسی بھی پاکستانی شہری کا مقدمہ پاکستان کی عدالت میں ہی چلے گا۔‘
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پیر کو مظفرآباد کے نواح میں لشکر طیبہ کے مبینہ کیمپ پر کارروائی کرکے اس کو اپنے کنڑول میں لے لیا تھا۔ بھارت کا الزام ہے کہ لشکرِ طیبہ نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔