Monday, 08 December, 2008, 15:53 GMT 20:53 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پشاور کے رنگ روڈ پر اتوار کو افغانستان میں تعینات کثیرالمکی امن فوج کی رسد پر حملہ ہوا ہے جسے مسلح شدت پسندوں کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی ایک دوسرے ٹرمینل پر بھی اسی قسم کا حملہ کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
ان حملوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ حملے اسی رفتار سے جاری رہے تو شاید اس سے بڑے حملے بھی ہو سکتے ہیں۔
ان حملوں میں چند ہفتے قبل پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دورۂ برسلز کے بعد تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ نیٹو کے ہیڈکواٹرز کے دورے کے دوران پاکستانی فوجی رہنما نے یورپی اتحاد کو یقین دلایا تھا کہ نیٹو کی سپلائی لائنز کھلی رہیں گی۔
کراچی کی بندرگاہ پر اترنے کے بعد نیٹو افواج کا سامان دو زمینی راستوں سے افغانستان جاتا ہے۔ ان میں جنوبی افغانستان کے لیے کوئٹہ اور شمال مشرقی افغانستان کے لیے پشاور کے راستے بھیجا جاتا ہے۔ اس طرح نیٹو افواج کے مجموعی سامان کا پچھتر فیصد پاکستان سے گزر کر جاتا ہے۔
اگرچہ عام تاثر یہی ہے کہ ان حملوں کا مقصد افغانستان میں طالبان کے خلاف سرگرم اتحادی افواج کو نقصان پہنچانا اور پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کا بدلہ لینا ہے۔ تاہم ایساف کے ایک ترجمان کا موقف تھا کہ اس حملے سے ہونے والا نقصان کچھ زیادہ نہیں ہے۔
نقصان ہوا یا نہیں ہوا یا اگر ہوا تو کتنا ہوا یہ الگ بحث ہے لیکن اس تمام لڑائی میں میدان جنگ جسے بنایا جا رہا ہے اصل تشویش
کی بات وہ ہے۔ افغانستان میں اتحادی افواج کے ایک کمانڈر نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ طالبان کے ساتھ اپنی
لڑائی بڑے شہری علاقوں سے دور پہاڑی علاقوں میں لڑی جائے تاکہ جلال آباد، قندھار اور کابل جیسے شہر پرامن رہیں اور وہاں بسنے والے
ترقی کر سکیں۔
|
شہری علاقوں میں ناکامی
|
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں نیٹو کے سامان رسد کے ایک قافلے پر حملے اور اس کے ایک درجن سے زائد ٹرک اغوا کرنے کے واقعے کے بعد حکام نے سکیورٹی کے نئے انتظامات کیے تھے۔ انہوں نے ان ٹرکوں کو سکیورٹی اہلکاروں کی حفاظت میں اب قافلوں کی صورت پشاور سے طورخم روانہ کرنا شروع کیا۔
لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان ٹرکوں کے لیے محض قبائلی علاقے ہی خطرناک نہیں۔ شدت پسند جس قسم کی گوریلا جنگ لڑ رہیں ہیں ان کے لیے یہ تبدیلی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔ وہ پشاور میں انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں اور انہوں نے گزشتہ دو دنوں میں اپنی کارروائیوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایسا باآسانی کرسکتے ہیں۔
سکیورٹی فورسز پہلے ہی اپنی صلاحیت سے زیادہ پھیلی ہوئی ہیں۔ اس فورس کی تربیت اور مورال کا بھی مسئلہ ہے۔ اس کا اعتراف عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت اور پولیس کرتی ہیں۔ حکومت کے لیے یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ قافلے والے انتظامات کراچی سے طورخم تک تقریباً بارہ سو کلومیٹر کے اس سفر میں ممکن بنائے جا سکیں۔ یہی سکیورٹی فورسز کی کمزوری ہے جو شدت پسندوں کے مفاد میں ہے۔ حملہ آور اسی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کے خیال میں جو شدت پسند چاہ رہے ہیں سکیورٹی فورسز وہی کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ آسمان سے تو اترتے نہیں ہیں؟ پشاور کے تمام داخلی راستوں پر ناکہ بندی کے باوجود اگر تین سو مسلح افراد مسلسل دوسری رات پشاور پہنچتے ہیں اور اپنی مرضی کی کارروائی کرنے کے بعد بغیر کسی مزاحمت کے چلے جاتے ہیں تو یہ کیا ظاہر کرتا ہے۔ یا تو سکیورٹی کم ہے یا ہے ہی نہیں۔
بعض لوگ پولیس کے اس بنیادی دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ مسلح حملہ آوروں کی تعداد تین سو تھی۔ آگ لگانا یا دو چار راکٹ داغنے
کا کام تو محض دس بارہ لوگ بھی باآسانی کرسکتے ہیں۔ یہ سب مبالغہ آرائی بعض لوگوں کو شک ہے کہ سکیورٹی فورسز محض اپنی ناکامیوں
کو چھپانے کی خاطر یا کسی بات پر پردہ ڈالنے کے لیے کرتے ہیں۔
|
سوچنے کی بات یہ ہے؟
|
گوریلا جنگ میں آپ اگر دشمن کو ان کی کمین گاہوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ نہیں بنائیں گے تو وہ وہی کریں گے جو وہ کر رہے ہیں۔ پشاور پولیس کے سربراہ صفت غیور نے اعلان تو کر دیا کہ وہ جلد ’شرپسندوں’ کے خلاف کارروائی شروع کریں گے لیکن ابھی تک اس کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ مزید تاخیر شدت پسندوں کو مزید تقویت بخشے گی۔ وہ ماضی کی طرح زیادہ نڈر اور بےباک ہوجائیں گے۔
یہ حملے صوبائی دارالحکومت پشاور کے لیے یقیناً کوئی اچھا شگون نہیں۔ آج بھی ایک مرتبہ پھر شہر کے مختلف علاقوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کے گرنے کی اطلاع ہیں۔ اگر ان میں ملوث افراد تک نہ پہنچا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں کا بچا کھچا امن اور سکھ چین بھی غارت ہو جائے گا۔