Sunday, 07 December, 2008, 23:24 GMT 04:24 PST
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
امریکی ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ امریکہ کو فوجی حکمت عملی کے اعتبار سے پاکستان، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ایک نئی ساجھیداری کی ضرورت ہے اور اس شراکت کا مقصد ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ہوگا جو بین الاقوامی برادری کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ایران کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مائل کرنے کے لیے وہ براہ راست لیکن سخت سفارت کاری کے حق میں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے وہ ایران کو اقتصادی مراعات دینے کو تیار ہیں لیکن ایران نہ مانا تو اس کے خلاف پابندیاں سخت کی جاسکتی ہیں۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ وہ ایران سے براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری، دہشت گردوں کی اعانت اور اسرائیل کے خلاف دھمکیاں امریکہ برداشت نہیں کرے گا۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو تعلقات استوار کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے اور یہ کہ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے یہ کہا ہےکہ دہشت گردی صرف امریکہ کے لیے ہی نہیں پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ افغانستان کو مجموعی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔’ یہ علاقائی مسئلہ کا حصہ ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے، ہندوستان بھی، کشمیر بھی اور ایران بھی۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ٹھیک ہو جائیں۔