Wednesday, 03 December, 2008, 13:30 GMT 18:30 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات پر عمل کیا گیا تو مہنگائی پاکستانی تاریخ کی کم ترین شرح پر ہو گی۔
آئی ایم ایف نے بدھ کے روز ساڑھے سات ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کے لئے طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ان تفصیلات پر عمل کی صورت میں آئندہ چار برس میں پاکستانی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہوگی اور سماجی شعبے کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوگا۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کو ان معاشی اہداف کے حصول کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی کیونکہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ان شرائط سے فرار ممکن نہیں۔
اس معاہدے کی ایک شق کے مطابق حکومت اس پروگرام پر عمل در آمد کے بارے میں آئی ایم ایف کو باقاعدگی کے ساتھ اعتماد میں لینے کی پابند ہو گی اور مقررہ اہداف کے حصول میں ناکامی کی صورت میں قرض کا اجرا روک لیا جائیگا۔
یہ شرائط پاکستان اور آئی ایم ایف کے حکام کے درمیان ستمبر کے مہینے میں دبئی میں کئی روز جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران طے
پائی تھیں۔ ان کے بارے میں مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ یہ خالصتاً پاکستانی پروگرام ہے جس کی آئی ایم ایف نے منظوری دی
ہے۔
|
طویل مدتی منصوبہ
|
طویل مدتی معاشی منصوبے کے مطابق آئندہ چار برس میں افراط زر کی شرح موجودہ پچیس فیصد سے پانچ فیصد پر لائی جائےگی، اقتصادی ترقی کی رفتار موجود ساڑھے تین فیصد سے بڑھ کر سات فیصد ہو جائیگی۔ مالیاتی خسارہ ساڑھے سات فیصد سے کم ہو کر ساڑھے چار فیصد ہو جائیگا اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر چودہ ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔
اس پروگرام کے تحت حکومت ان برسوں میں پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں کی واپسی میں بھی تیزی لائےگی اور کل واجب الادا قرض کا پچاس فیصد آیندہ چار برسوں میں ادا کرنے کی پابند ہوگی۔
سماجی شعبے میں بہتری کے لئے حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عالمی بینک کے تعاون سے اس شعبے کی بہتری کے لئے اخراجات کرے گی اور غربت میں کمی کے پروگرام شروع کئے جائیں گے۔
قلیل المدتی اہداف میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ ایک برس میں ملک کے مختلف شعبوں کو دی جانے والے رعایتیں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر کے بجٹ خسارے اور افراط زر کی شرح کو کم جائیگا۔
اس ماہ کے آخر تک بینکوں کو بحران سے نکالنے اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لئے پالیسی تیار کر لی جائے گی جبکہ اگلے سال جون تک عالمی بینک کے تعاون سے بجلی سمیت تمام شعبوں پر سبسڈی ختم کرنے کے لئے منصوبہ تشکیل دیا جائے گا۔