Tuesday, 02 December, 2008, 14:39 GMT 19:39 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں مختلف واقعات میں ایک اہلکار اور چھ مسلح طالبان سمیت دس افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین عام شہری بھی شامل ہیں۔
سوات میڈیا سینٹر کے مطابق منگل کی صبح مسلح طالبان نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملہ کیا جس کے بعد فریقین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان جھڑپوں میں ایک اہلکار اور چھ مشتبہ طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے حکومتی دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا کہ جھڑپوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے توپخانے کا استعمال کیا گیا جس میں ایک عام شہری کا گھر نشانہ بنا۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ توپ کا گولہ گرنے سے ایک چھ سالہ بچہ ہلاک جبکہ دو خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ منگل کو سوات کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو عام شہری ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق قمبر کے علاقے سے ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کس کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔
ہسپتال ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیر کو سنگوٹہ چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون چل بسی جس کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے جبکہ انچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف منگل کی صبح قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے سامان لے جانے والے ایک کنٹینر کو ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں تین افراد معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔
پیر کی صبح بھی درجنوں مسلح افراد نے پشاور کے رنگ روڈ پر نیٹو فورسز کو سامان لے جانے والی بیس کے قریب گاڑیوں کو آگ لگائی تھی جبکہ دو ڈرائیوروں کو ہلاک بھی کردیا تھا۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے راستے نیٹو فورسز کو سامان لیجانے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔