Monday, 01 December, 2008, 15:55 GMT 20:55 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو تحریک کے کارکن فوج اور سکیورٹی فورسز سے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملک کے دفاع کےلیے ان کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔
تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے پیر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ فوج اور سکیورٹی فورسز سے ان کے اختلافات اپنی جگہ لیکن بات اب ملک کی سالمیت کی ہے لہذا اس پر حملے کی صورت میں سختی سے جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کی دھمکیاں فوج یا سکیورٹی فورسز کے خلاف نہیں بلکہ ایک مسلمان ملک کے خلاف ہیں اس لیے طالبان جس طرح اپنے ہی اسلحہ سے ڈیورنڈ لائن کی حفاظت کرتے رہے ہیں اس طرح لائن آف کنٹرول کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔‘
ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ممبئی دھماکوں کے بعد ان کا حکومت سے کوئی رابط ہوا ہے تو انہوں نے ایسے کسی قسم کے رابطے کی سختی سے تردید کی۔ البتہ ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا اور پاکستان کے عوام پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محب وطن ہیں اور اس مٹی سے محبت رکھتے ہیں۔
مولوی عمر نے ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر ممبئی دھماکوں کے الزام کو بے بنیاد قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی سرزمین کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں لہذا بھارت کو آئندہ اس قسم کے دھمکیوں سےگریز کرنا چاہیے۔
سنیچر کی شام اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سکیورٹی ایجنسی کے اعلی اہلکار نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ بیت اللہ محسود ہوں یا بلوچستان کے قوم پرست رہنما وہ سب محب وطن ہیں اور پاکستان کے خلاف نہیں۔