Wednesday, 26 November, 2008, 08:32 GMT 13:32 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں واقع متنی کے علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں اور مقامی لشکر کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں دو مبینہ عسکریت پسندوں سمیت چار افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔
متنی پولیس کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً دو بجے کے قریب ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس سو سے زائد مبینہ عسکریت پسندوں نے پشاور سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع متنی کے ادیزئی کے علاقے کے ناظم عبدالمالک کے گھر پر حلہ کر دیا۔
پولیس کے بقول حملہ آوروں نے ناظم کے گھر کو دستی بموں اور راکٹوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ناظم، ان کی بیوی، بیٹا اور بھتیجا زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق اس دوران مبینہ عسکریت پسندوں کے مقابلے کے لیےحال ہی میں حکومت کی جانب سےتشکیل پانے والے مقامی لشکر کے مسلح افراد وہاں پہنچ گئے۔ رات دو بجے شروع ہونے والی جھڑپ صبح تقریباً آٹھ بجے تک جاری رہی جس میں دو مبینہ عسکریت پسند اور دو مقامی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
جھڑپ کے بعد مبینہ عسکریت پسند علاقہ چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگئے۔ ناظم عبدالمالک اور دیگر پانچ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل کےقریب واقع متنی کا علاقہ کافی عرصے سے مبینہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہے اور حکومت نے اس سے نمٹنے کے لیے وہاں پر مقامی لشکر تشکیل دیئے ہیں جنہیں اسلحہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔