Saturday, 22 November, 2008, 18:31 GMT 23:31 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ ان کے ملک کے اندر براہ راست حملے کرنے کے بجائے جاسوس طیارے پاکستان کو دے پاکستان تا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف خود کارروائی کرے۔
لیکن پاکستان میں ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو نہ صرف جاسوس طیارے بناتی ہیں بلکہ امریکہ سمیت دوسرے کئی ممالک کو یہ طیارے برآمد بھی کرتی ہیں۔
پھرصدر زرداری کو امریکہ سے یہ مطالبہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور آیا پاکستانی جاسوس طیارے بھی اتنے ہی جدید اور لڑاکا ہیں جتنے سرحد پار سے آنے والے امریکی طیارے۔
اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ ملک میں ایسی کم سے کم دو کمپنیاں ہیں جو نہ صرف ڈرون یا جاسوس طیارے بناتی ہیں بلکہ بغیر پائلٹ کے ہوا میں چلنے والی دوسری اشیا بھی تیار کرتی ہیں۔
ان میں ایک کمپنی تو کراچی میں قائم ہے جس کا نام آئی ڈی یا انٹی گریٹڈ ڈائنامکس ہے اور دوسری کمپنی ایسٹ ویسٹ انفینٹی ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔
ایسٹ ویسٹ انفینٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہارون جاوید قریشی کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی میں بننے والے بغیر پائلٹ والے جاسوس طیارے جسے
انگلش میں یو اے وی کہتے ہیں، ان امریکی طیاروں جیسے نہیں ہیں جو سرحد پار سے آکر پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔
|
بغیر پائلٹ والے جاسوس طیارے
|
جاسوس طیارے بنانے والی پاکستانی کمپنی انٹگریٹڈ ڈائنامکس کی ویب سائیٹ کے مطابق یہ ادارہ بغیر پائلٹ کے چلنے والے جاسوس طیارے دوسرے ملکوں کو بھی برآمد کرتا ہے جن میں امریکہ، آسٹریلیا، اٹلی اور سپین جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے ممالک پاکستان میں بننے والے ان طیاروں کو کیوں خریدتے ہیں؟ اور کس کام میں لاتے ہیں؟
اس کا جواب جاننے کے لئے میں نے ک؟ئی بار اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راجہ خان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔
ایسٹ ویسٹ انفینٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہارون جاوید قریشی نے البتہ اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں میری مدد ضرور کی۔
انہوں نے بتایا کہ ’آئی ڈی کے جو یو اے ویز ایکسپورٹ ہوئے ہیں انہیں فوجی استعمال میں نہیں بلکہ سویلین اور جزوی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے استعمال میں لایا گیا ہے‘۔
ہارون جاوید قریشی نے بتایا کہ باہر کے ممالک پاکستان میں بننے والے مائکرو یو اے ویز یا چھوٹے جاسوس طیارے اس لئے بھی خریدتے ہیں کہ ان کی قیمت بہت کم ہوتی ہے۔
’ایسی ٹیکنالوجی یورپ اور امریکہ میں دستیاب ہے لیکن وہ فوجی قیمت پر بکتی ہے۔ چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی کئی ہزار ڈالر میں بکتی ہے جب کہ ہم اس کو کئی ہزار روپے کہہ سکتے ہیں تو جو قیمت کا فرق ہے وہ کم از کم ایک تین یا ایک چار یا ایک پانچ کے تناسب کا‘۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی بغیر پائلٹ کے چلنے والی ایسی اور بھی مصنوعات بناتی ہے جو فوجی اور سویلین مقاصد کے لئے استعمال
ہوسکتی ہیں۔ ان میں ایک ٹیکنالوجی وسپر واچ ہے جو فضا میں بلند ہوکر ڈھائی سو مربع کلومیٹر کے علاقے میں ریڈیو، موبائل یا سٹیلائٹ
فون پر ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کرسکتی ہے۔ ہارون جاوید قریشی کے مطابق وسپر واچ کو فضا میں بھیجنے کے لئے جس گاڑی کی ضرورت
پڑتی ہے اسے ائربورن آئیز یعنی آسمان میں آنکھیں کا نام دیا گیا ہے۔
|
فوج مائیکرو ڈرون بناتی ہے
|
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی افواج نہ صرف ان کی کمپنی کی مصنوعات خریدتی ہے بلکہ اب خود بھی مائیکرو ڈرونز تیار کرتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ہارون جاوید قریشی نے بتایا کہ پاکستان اگلے دس سالوں میں اس قابل ہوجائے گا کہ وہ ایسے جاسوس طیارے تیار کرسکے جو میزائل سے حملہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔