Saturday, 22 November, 2008, 08:57 GMT 13:57 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے ایک مقامی رہنماء نے جمعہ کو ایک جنازے پر ہونے والے مبینہ بم حملے کا الزام کالعدم لشکر جھنگوی پر عائد کرتے ہوئےنامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی درج کرائی ہے۔
دوسری طرف ہلاک شدگان کو اجتماعی نمازِ جنازے کے بعد دفنا دیا گیا ہے جبکہ شہر میں غیر اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی ایس پی ثناء اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اہل تشیع کے ایک مقامی رہنماء بشیر جڑیا نے کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعہ کو جنازے پر ہونے والےمبینہ بم حملے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے کارکن مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پولیس نے اس سلسلے میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا ہے اور تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اس حملے میں کون لوگ ملوث ہیں۔
ان کے مطابق پولیس نے دھماکے کے بعد مشتعل افراد کی جانب سے دکانوں اور گاڑوں کو نذرِ آتش کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف بھی
ایف آئی آر درج کرائی ہے تاہم ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
|
|
ان کے مطابق جس راستے سے جنازہ گزر رہا تھا اس کو پولیس نے ٹریفک اور غیر متلعقہ لوگوں کے لیے مکمل طور پر بند کردیا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود کشیدگی میں قدرے کمی آئی ہے لیکن لوگوں میں پھر بھی خوف و ہراس برقرار ہے۔ ان کے بقول بڑے بڑے کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں، سرکاری دفاتر میں حاضری کم ہے جبکہ سڑکوں پر اِکا دکا ٹریفک نظر آرہا ہے۔
یاد رہے کہ جمعہ کی دوپہر ڈیرہ اسماعیل خان میں بنوں اڈے کے قریب ایک جنازے پر مبینہ بم حملہ ہوا تھا جس میں پولیس کے مطابق آٹھ افراد ہلاک جبکہ تیئیس زخمی ہوگئے تھے۔