http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 16 November, 2008, 12:07 GMT 17:07 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’نیٹو افواج رسد پِیر سے بحال‘

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر سے افغانستان سامان
لے جانے والے ٹرکوں کو سفر کی اجازت ہوگی۔

درجنوں کی تعداد میں یہ ٹرک حکام کی جانب سے راستے کی بندش کی وجہ سے پشاور میں کئی روز سے رکے ہوئے تھے۔

نیٹو کا سامان لے جانے والے ٹرک اغوا

افغانستان میں سرگرم اتحادی افواج کا سامان رسد پشاور میں گزشتہ تقریباً
ایک ہفتے سے خیبر ایجنسی میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے رکا
ہوا تھا۔ اس کی بڑی وجہ شدت پسندوں کی جانب سے درجن بھر ٹرکوں کا اغوا تھا۔ تاہم اب خیبر ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ کل سے یہ ٹرک نئے سکیورٹی منصوبہ بندی کے تحت افغانستان قافلوں کی شکل میں روانہ ہوسکیں گے۔ ان کے ہمراہ سکیورٹی اہلکار اور گاڑیاں ہوں گی۔

خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ طارق حیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی خدشات کی بنا پر وہ نئی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے تاہم اب یہ ٹرک قافلوں کی شکل میں روانہ کیے جائیں گے جن کے ہمراہ سکیورٹی اہلکار اور گاڑیاں بھی ہوں گی۔

ان کے مطابق اس قسم کا پہلا قافلہ کل صبح پشاور کے قریب تختہ بیگ سے روانہ ہوگا جس کے تمام راستے میں بھی سکیورٹی بڑھائی جائے گی۔ اس سوال پر کہ آیا وہ انتظامات کو تسلی بخش سمجھتے ہیں طارق حیات کا کہنا تھا کہ وہ اپنی طرف سے صرف انتظامات ہی کر سکتے ہیں۔

پشاور کے رنگ روڈ پر کھڑے درجنوں ایسے ٹرک دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان ٹرکوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ اس بندش سے انہیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ راستے کھلنے کی خبر پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کو بھیجا جانے والا یہ سامان پہلے کراچی آتا ہے جہاں سے اسے زمینی راستے سے افغانستان منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ فراہمی ٹرکوں کے ذریعے کی جاتی تھی او ر اس کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان درۂ خیبر کا پہاڑی راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔