http://bbc.com.im/urdu/

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

جیٹ طیاروں کی باجوڑ پر بمباری

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے جیٹ طیاروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

دوسری طرف سوات میں شدت پسندوں نے چار اسنوکر کلب کو نذرآتش جبکہ ایک رابط پل کو دھماکے سے تباہ کیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو باجوڑ ایجنسی کے دوردراز علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے جیٹ طیاروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجہ میں شدت پسندوں کے زیر زمین بنکرز سمیت کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

حکام کے مطابق باجوڑ ایجنسی کی تحصیل نواگئی چارمنگ، چینار اور زور بند میں سکیورٹی فورسز نے رات بھر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس کے نتیجہ میں حکام نے چار شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

باجوڑ میں تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ باجوڑ میں مقامی طالبان اب بھی مضبوط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے نتیجہ میں طالبان کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ہے۔

دوسری طرف سوات کے صدر مقام مینگورہ میں شدت پسندوں نے چار سنوکر کلبوں کو نذرآتش اور ایک رابط پل کو دھماکے سے تباہ کیا ہے۔ ایک سنوکر کلب کی چھت گرنے سے چوکیدر ہلاک ہوگیا ہے۔

سوات میڈیا سنٹر کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات کے صدر مقام مینگورہ کے دو مختلف علاقوں عثمان آباد اور طاہر آباد میں شدت پسندوں نے چار سنوکر کلبوں کو نذرآتش کردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سنوکر کلب کی چھت گرنے سے چوکیدار ہلاک ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل مٹہ کے علاقے سمبٹ میں شدت پسندوں نے ایک رابط پل کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا ہے۔ انہوں نے کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کاروائی بدستور جاری ہے۔ ان کے مطابق تحصیل کبل میں سنچر کو بھی شدت پسندوں کے کئ ٹھکانوں پر گن شیپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔