Friday, 14 November, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہورکی مقامی عدالت نے ایف آئی اے کو مالیاتی سکینڈل میں ملوث ملزم جاوید خانانی اور ان کے دو ساتھیوں کا مزید تین روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے گزشتہ ہفتے خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل کے دونوں مالکان یعنی جاوید خانانی اور مناف کالیا کو کرنسی کے مبینہ غیر قانونی لین دین کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے علاوہ گوجرانوالہ کے رستم علی خان اور طارق محمود بھی زیر حراست ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے ملزموں کے مزید سات روزہ ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔
جاوید خانانی کے وکیل اعجاز احمد خان نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مقدمہ بدنیتی پر
مبنی ہے اور ایف آئی اے حکام نے اگر کوئی تفتیش کرنا بھی ہے تو وہ ان کمپیوٹروں کے ذریعے کر سکتی ہے جو پہلے سے ان کے قبضے میں
ہیں۔
جاوید خانانی کے وکیل نے کہا کہ اس تفتیش کے لیے جاوید خانانی اور دیگر ملزموں کی جسمانی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے یا عدالتی تحویل میں جیل بھجوادیا جائے۔
مقامی مجسٹریٹ نے تینوں ملزموں کا مزید تین تین روز کا جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ دیگرملزموں رستم علی خان اور طارق محمود کی ان کے وکیل سے ملاقات کروائیں۔
جاوید خانانی اس سے پہلے سات روز کا جسمانی ریمانڈ گزار چکے ہیں۔خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل کے دوسرے ڈائریکٹر مناف کالیا پہلے
سے ہی سترہ نومبر تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں۔
|
کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا
|
ایف آئی اے حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور الیکٹرانک آرڈینینس کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ملزمان کی فرنچائزڈ کمپنیاں ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ہیں‘۔
عدالت میں فاریکس ایسویشن آف پاکستان کے رہنما ملک بوستان اور دیگر کرنسی ڈیلر بھی موجود تھے۔ ملک بوستان نے کہا کہ کرنسی ڈیلر حکومت پاکستان کے قوانین کے مطابق کرنسی کا لین دین کرتے ہیں اور انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے۔
ادھر مشیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حوالہ اور ہنڈی ملکی معشیت کے لیے کینسر ہیں اور وہ پاکستان میں حوالہ یا ہنڈی کا کاروبار نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بنکوں کو بھی ہدایت کررہے ہیں کہ وہ ترسیلات زر کا نظام بہتر کریں اور رقم اڑتالیس گھنٹے کے اندر ادا کی جائے۔