Friday, 14 November, 2008, 09:23 GMT 14:23 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ پشاور سے ایرانی کمرشل اتاشی کے اغوا میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان ملوث ہیں اور حکومت اس سفارتکار کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
جمعہ کے روز چین کی حکومت کی جانب سے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پندرہ گاڑیاں دینے کی تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ کسی بھی تنظیم نے ایرانی کمرشل اتاشی کے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس واقعہ میں تحریک طالبان ملوث ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو پشاور میں ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی حشمت اطہر زادے گھر سے دفتر جا رہے تھے کہ فیزفور کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے گاڑی پر فائرنگ بھی کی جس سے ایرانی اہلکار کا محافظ ہلاک ہوگیا تھا۔
رحمن ملک نے کہا کہ دو چینی انجینئروں کے اغوا میں بھی تحریک طالبان ملوث ہے اور ان میں سے ایک مغوی شدت پسندوں کے چُنگل سے نکل آیا تھا۔
ملک سے غیر ملکی کرنسی بیرون ملک منتقل کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مشیر داخلہ نے کہا کہ اس سکینڈل میں ملوث افراد
کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی طرف سے چھاپے کے دوران قبضے میں لیے گئے بیس کمپیوٹروں میں سے
ایک کمپیوٹر کو ڈی کوڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مالیاتی سکینڈل میں ملوث کسی بھی شخص سے رعایت نہیں برتی جائے گی چاہے وہ سرکاری ملازم ہی کیوں نہ ہو۔
رحمان ملک نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس یا فوجی افسران کی کوئی فہرست نہیں بنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حوالہ اور ہنڈی کا کاروبار پاکستان میں ایک کینسر بن گیا ہے اور حکومت نے اس کو جڑ سے اُکھاڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔