http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 November, 2008, 13:38 GMT 18:38 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

سرحد، سفارتکاروں کا اغوا، بازیابی نہیں

صوبہ سرحد کے صدر مقام پشاور اور ملحقہ علاقوں سےگزشتہ دو مہینوں میں کئی اہم غیر ملکی اہلکار اور سفارت کار اغواء ہو چکے ہیں لیکن ان اہلکاروں میں سے تاحال کسی کو بھی بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

غیر ملکی سفارت کاروں کا پشاور سے اغواء
چار سدہ میں خود کش حملہ
امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک

واضح رہے کہ حال ہی میں سی آئی ڈی پولیس نے وزارت داخلہ کو متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے غیر ملکیوں کو اغواء کریں گے۔

ماہِ رواں کے دوران ہی صوبہ سرحد سے تین غیرملکیوں کو اغواء کیا گیا ہے۔غیر ملکیوں کے اغواء کا تازہ ترین واقعہ تیرہ نومبر دو ہزار آٹھ کو پیش آیا جب پشاور میں ایرانی قونصلیٹ کے کمرشل اتاشی حشمت اطہرزادہ کوگھر سے دفتر جاتے ہوئے حیات آباد فیز فور کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا۔ اس کارروائی کے دوران مسلح افراد نےگاڑی پر فائرنگ بھی کی جس سے ایرانی اہلکار کا محافظ موقع پر ہلاک ہوگیا ۔

اس سے قبل بارہ نومبر دو ہزار آٹھ کو ضلع بنوں میں ایک غیر ملکی خاتون جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کینیڈین شہری ہیں، اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ایف آر بنوں جانی خیل کے علاقے سے لاپتہ ہوگئی تھیں۔

تین نومبر دو ہزار آٹھ کو چترال پولیس کے ایک اہلکار علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ افغان وزرات برائے دیہی ترقی کے مشیر اختر جان کوہستانی کو نامعلوم مسلح افراد نے دروش کے علاقے سیر دور سے اغواء کیا ہے۔اختر کوہستانی بی بی سی پشتو سروس کے سابق نمائندے رہ چکے ہیں۔

اس سے قبل اکتیس اکتوبر 2008 کو پشاور میں افغان وزیرِ داخلہ انوار الحق احدی کے چھوٹے بھائی ضیاءالحق احدی جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے واپس گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور اطلاعات کے مطابق انہیں چار مسلح افراد نے اغواء کیا۔

اس سے ایک ہفتے قبل پشاور میں افغان آریانہ یونیورسٹی کے سربراہ عبدالحق دانشمند کو بھی جلال آباد سے پشاور آتے ہوئے راستے میں اغواء کر لیا گیا تھا۔

پشاور اور ملحقہ علاقوں میں اہم شخصیات کے اغواء کا حالیہ سلسلہ بائیس ستمبر دو ہزار آٹھ کو شروع ہوا تھا جب حیات آباد کے علاقے سے افغان قونصل جنرل عبدالخالق فراحی کو اغواء کیا گیا تھا۔ اس واردات کے دوران اغواء کاروں نے ان کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔