http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 11 November, 2008, 13:05 GMT 18:05 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور:بین الصوبائی گیمز کے بعد دھماکہ

صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے قیوم سٹیڈیم میں بین الصوبائی گیمز کی اختتامی تقریب کے موقع پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے میں تین افراد ہلاک جبکہ سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔حملے میں خودکش بمبار بھی مارا گیا۔

تحریِک طالبان درہ آدم خیل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکا نشانہ گورنر اور صوبائی وزراء تھے۔

پشاور میں ’خودکش حملہ‘: تصاویر

صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ ملک نوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منگل کی شام تقریباً چھ بجے ایک مبینہ خودکش بمبار نے قیوم سپورٹس کمپلیکس میں بین الصوبائی گیمز کی اختتامی تقریب میں وی آئی پی گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ پہرے پر تعینات پولیس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو اڑا دیا۔

ان کے اختتامی تقریب کےمہمان خصوصی صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی تقریب کے جانے کے کچھ دیر بعد یہ واقعہ پیش آیا۔آئی جی کے بقول اس حملے میں حملہ آورکے بغیر دو عام شہری ہلاک جبکہ دس زخمی ہوگئے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر خضر حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس تین لاشیں اور سولہ زخمی لائے گئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

زخمی ہونے والے ایک ٹریفک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گورنر صوبہ سرحد کے نکل جانے کے کچھ دیر بعد ایک دوسری وی آئی پی گاڑی بھی آرہی تھی کہ انہوں نے ایک زور دار دھماکہ سنا جس کے بعد وہ زمین پر گرپڑے۔

ان کے مطابق ہر طرف دھول ہی دھول تھی اور انہیں صرف لوگوں کے کراہنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ہلاک ہونے والوں میں ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنی ٹیم کے ساتھ آنے والے محمد طفیل بھی شامل ہیں۔جبکہ زخمیوں میں سنئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کے تین محافظین اور سندھ سے آئے ہوئے ایک کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے بی بی سی اردو کو فون کرکے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ گورنر سرحد اور اے این پی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء تھے۔

تیسری بین الصوبائی گیمز کا آغاذ تین دن قبل پشاور کے قیوم سٹیڈیم میں ہوا تھا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر صوبہ سرحد کے وزیر اعلی حیدر خان ہوتی نے کہا تھا کہ کھیلوں کے انعقاد کا مقصد پورے ملک کو امن کا پیغام دینا ہے۔

ان کھیلوں میں ملک بھر سے تقریباً بارہ سو مرد اور خواتین کھلاڑیوں نے اٹھارہ کھیلوں میں حصہ لیا تھا۔ ہر صوبے سے تین سو پچپن کھلاڑیوں پر مشتمل دستے شامل تھے۔