Friday, 07 November, 2008, 05:28 GMT 10:28 PST
ایوب ترین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں زلزلے سے زیادہ تر متاثرہ علاقو ں میں حکومت کی جانب سے امدادی کام جاری ہیں مگر بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ابھی تک فوج اور فرنٹئر کورکے ساتھ ساتھ کسی بھی سرکاری ادارے کے اہلکار نہیں پہنچ سکے ہیں ان علاقوں میں درہ زرغون کاعلاقہ تورشوراور شابان بھی شامل ہیں۔
یہ علاقے دارالحکومت کوئٹہ سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود ابھی تک حکومت کے نظروں سے اوجھل ہے۔ یہاں انتیس اکتوبر کوآنے والے زلزلے سے ڈیڑھ سوسے زیادہ مکانات منہدم ہوچکے ہیں جبکہ اس سے کئی زیادہ مکانات کریک پڑنے کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں جسکے نتیجے میں سنیکڑوں کی تعداد میں لوگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے راتیں گزارنے پر مجبورہیں اور یہاں دس ہزار سے زیادہ لوگ ابھی تک خیموں گرم کپڑوں، آٹا اور دیگر ضرورت کے چیزوں کے لیے منتظر ہیں۔
قبائلی شخص ابراہیم نے کہا کہ ابھی تک اس علاقے سے منتخب ہونے والے صوبائی وزیر سلطان ترین ضلع ناظم اور نہ ہی حکومت کے کسی اور نمائندے نے یہاں کا دورہ کیا ہے ان کے مطابق ان لوگوں کوفوری طور پر پانچ سو خیموں کی ضرورت ہے۔
زمیندار غلام سرور نے بتایا ہے کہ زلزلے کے بعد بچے خوف کی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہرنائی اور زیارت سے تورشور کوملانے والی سڑک پر پہاڑی تودے گرنے سے بند ہیں اور تور شور کا زمینی راستہ کٹ چکاہے جسکی وجہ سے علاقے میں خوراک کی قلت پیداہوگئی ہے۔
اس موقع پر کوئٹہ میں یواین ایچ سی آر کی ترجمان متحرمہ دنیا اسلم خان نے بتایاکہ یواین ایچ سی آر زرغون کے متاثرہ علاقوں کیلئے مزید ضروری سامان روانہ کرے گی انکے مطابق اس وقت خواتین اور بچوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ادویات کی ضرورت ہے۔
امدادی کام میں مصروف ریلیف پاکستان کے نمائندے محمدعلی نے بتایا کہ این جی اوز نے اپنی مد د آپ کے تحت انکی مدد کی ہے لیکن حکومت کوبھی فوری طور پراس علاقے میں امدادی کام کا آغازکرناچاہیے۔
درہ زرغون کے دامن میں واقع تورشور اور شابان میں کاکڑ قوم سے تعلق رکھنے والا دومڑ قبیلہ آباد ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بجلی گیس ٹیلی فون اور سڑک کی کوئی سہولت نہیں ہے جس کے باعث کوئٹہ سے صرف ساٹھ کلومیڑ پر ہونے کے باوجود توشورتک پہنچنے کیلئے تین سے چارگھنٹے لگ جاتے ہیں۔
صنوبرکے جنگلات کے حوالے سے مشہور زیارت کے بعد صنوبر کے دوسر ے بڑے جنگلات درہ زرغون میں واقع ہیں جوہزاروں سال پرانے ہیں کیونکہ اس جنگلی درخت کی خصوصیت یہ ہے کہ پانچ سال میں یہ درخت صرف ایک انچ بڑھتا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے گیس کی عدم فراہمی کے باعث یہاں کے مقامی لوگ ان قیمتی درختوں کوسردیوں میں جلانے کیلئے کاٹنے پر مجبور ہیں۔
حالانکہ شابان ایک تفریحی مقام ہونے کے باعث اعلی حکام اور فوجیوں نے اپنے لیے تو یہاں پلاٹ بھی الاٹ کیے ہیں لیکن یہاں لوگ پکے سڑک اور ٹیلی فون سے محروم رکھا ہے۔
زرغون میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی معاش زراعت اورمال میویشی سے وابستہ ہے لیکن صحت کے حوالے سے یہاں صرف ایک بی ایچ یوہے جہاں کوئی ڈاکڑ نہیں ہے یہی صورتحاپرائمری سکول کاہے جہاں لوگوں کے مطابق اس سکول میں ٹیچرنہیں آتاہے جبکہ بچیوں کیلئے کوئی سکول نہیں ہے۔