Thursday, 06 November, 2008, 12:37 GMT 17:37 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک جرگہ پر مبینہ خودکش حملہ ہوا ہے جس میں طالبان مخالف لشکر کے سربراہ فضل کریم سمیت انیس افراد ہلاک جبکہ تقریباً بیالیس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعرات کی دوپہر صدر مقام خار سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور سالارزئی کے باٹ مالئی کے علاقے میں طالبان مخالف جرگہ ہو رہا تھا کہ اس دوران ایک دھماکہ ہوا۔
جرگے میں موجود باجوڑ کے رہائشی ملک کمال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حملے کے وقت جرگے میں موجود تھے اور ان سے بہت قریب ہی دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد انیس ہے جن میں نو کے قریب سرکردہ ملکان شامل ہیں۔
باجوڑ سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہر نے بی بی سی کہ ابھی تک ان کے پاس سات لاشیں جبکہ تنیتیس زخمی لائے گئے ہیں۔انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
ایک اور ڈاکٹر، ڈاکٹر عاطف نے بی بی سی کو بتایا کہ نو لاشیں اور بیالیس زخمی لائے گئے ہیں۔ ان کے بقول زخمیوں کو ہسپتال لانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر شدید زخمی افراد شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پشاور ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
سالارزئی قبیلے کے ملک کمال خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جرگے میں مصروف تھے کہ ایک مبینہ خودکش بمبار نے ان پر حملہ کردیا۔ ان کے بقول اس حملے میں قبائلی لشکرکی قیادت کرنے والے ایک مشر میجر ریٹائرڈ فضل کریم بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں سالارزئی وہ پہلا قبیلہ ہے جس نے علاقے میں مبینہ طور پر سرگرم طالبان کے خلاف مسلح لشکر تشکیل دیا تھا اور ان کے بعض مشتبہ ٹھکانوں کو مسمار بھی کردیا گیا تھا۔ طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر سالارزئی قبیلے نے ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو انہیں حملے کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے تاہم ابھی تک طالبان اور نہ ہی کسی اور گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پولٹیکل حکام نے گزشتہ روز سالارزئی قبیلے کے مشران کے جرگے کی طالبان مخالف سرگرمیوں کی تعریف کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ اب بھی ان کے علاقے میں بعض ایسے عناصر موجو ہیں جن کے خلاف وہ مزید کارروائی کریں۔ ان کے مطابق جمعرات کے جرگے میں مشران اس بارے میں صلاح مشورہ کرنے میں مصروف تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔