Saturday, 01 November, 2008, 13:24 GMT 18:24 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ایک حملے میں کم سے کم چھ شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم فوج نے عام لوگوں کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔
دوسری طرف مینگورہ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس سب انسپکٹر کو گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔
سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پہلا واقعہ تحصیل مٹہ کے علاقے وینے پل پر پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ کرفیو ختم ہونے کے انتظار میں کھڑے تھے کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا ایک گولہ لوگوں کے درمیان میں آکر گرا جس سے وہاں موجود چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام عام شہری ہیں۔
بعض ذرائع نے ہلاک ہونے والوں افراد کی تعداد دس بتائی ہے
دریں اثناء سوات میڈیا سینٹر سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔
بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ حملہ عام لوگوں پر نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز نے وینے کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک کمانڈر شیر علی کے حجرے کو نشانہ بنایا تھا۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کون تھے۔
دوسری طرف سوات کے صدر مقام مینگورہ میں نامعلوم مسلح افراد ایک پولیس اہلکار کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔
مینگورہ تھانہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو تھانہ مٹہ کے سب انسپکٹر سید رحمان کسی کام کے سلسلے میں مینگورہ آئے ہوئے تھے کہ ملا با با کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے انسپکٹر موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔