Thursday, 30 October, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی وزیرِ اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کاروائیوں کے سلسلے میں جتنی بھی غیر ملکی امداد ملے گی اُس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر ملکی امداد کے بارے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 142 ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 250 سے زائد ہے جبکہ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق اس زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ حکومت زلزلے سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس زلزلے سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کو ریڈ الرٹ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چھ ہزار کمبل اور 4300 ٹینٹ بھی بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 305 گھر تباہ ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں 10 ہیلی کاپٹرز مصروف ہیں اور اُن کے ذریعے ادویات، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر اشیاء پہنچائی جا رہی ہیں۔
شیری رحمان نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ اُن کی ہدایت کی روشنی میں امداد بھجوائی جائے۔