Wednesday, 29 October, 2008, 13:39 GMT 18:39 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بدھ کی صبح آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے دو اضلاع کے تقریباً تمام متاثرہ علاقے تک امدادی کارکن پہنچ چکے ہیں اور بے گھر ہونے والے تین ہزار افراد کے لیے رات گزارنے کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے مکان چونکہ زیادہ تر مٹی سے بنے ہوئے تھے اور ان میں بڑی عمارتیں شامل نہیں تھی اس لیے زخمیوں اور لاشوں کی تلاش کے کام میں زیادہ مشکل نہیں ہو رہی۔
جنرل (ر) فاروق نے بتایا کہ اس زلزلے سے صوبے کے دو اضلاع میں دس گاؤں متاثر ہوئے ہیں جن میں موجود دو ہزار گھر مکمل طور پر تباہ
ہونے سے ایک سو پندرہ افراد ہلاک اور تین ہزار کے قریب بے گھر ہوئے ہیں۔
|
انٹرنیشل اپیل کا ارادہ نہیں
|
انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدہ اضلاع میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے کل ملا کر چار سو جوان حصہ لے رہے ہیں۔ ایک سی ون تھرٹی فوجی جہاز کے ذریعے دس ہزار ٹینٹ اور کمبل وغیرہ زیارت پہنچائے جا چکے ہیں جہاں پاک فوج کے جوان خیمہ بستی آباد کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام تین ہزار افراد اس خیمہ بستی میں رات گزاریں گے جہاں ان کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو مزید فوجی جہاز اور ایک فیلڈ ہسپتال تیار حالت میں موجود ہے جسے زیارت بھجوانے کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ کوئی ایسا علاقہ جہاں زلزلے سے تباہی ہوئی ہو، وہ انتظامیہ کی نظروں میں آنے سے رہ گیا ہو۔ تاہم فاروق احمد خان نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔