Tuesday, 28 October, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ پاکستان کو محض چند روز میں اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرض درکار ہیں۔
پاکستان میں سینئر حکام سے ملاقاتوں کے بعد انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
مسٹر شٹائن مائر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ قرض مسلسل شدید ہوتے بحران ہونے کے لیے درکار ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے آئندہ چوبیس ماہ میں پندرہ ارب ڈالر سے زائد کے قرضے درکار ہوں گے۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کو مسلسل مالی مدد اور زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری حاصل ہو۔
اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ اس سلسلے میں (آئی ایم ایف کا) فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ معاملہ چھ مہینے یا چھ ہفتے کا نہیں، چھ دن کا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس سلسے میں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرے گا۔