Sunday, 26 October, 2008, 15:19 GMT 20:19 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا کہ سوات اور قبائلی علاقوں میں فوج کا استعمال کر کے انہیں علیحدگی کی تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات اتوار کو مینار پاکستان میں جماعت اسلامی پاکستان کے تین روزہ اجتماع عام کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ’بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری فوج اس پر تلی ہوئی ہے کہ اگر قبائلی محب وطن ہیں اور اگر وہاں کوئی علیحدگی کی تحریک نہیں ہے تو وہاں علیحدگی کی تحریک شروع کی جائے۔‘
ان کے بقول فوج اس بات پر تلی ہوئی ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے مقاصد پورے کرنے کے لیے اپنی قوم کا خون کرے۔
امیرِ جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی جی ایف سی سرحد کی طرف سے باجوڑ میں ایک سال تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان اس قرارداد کے خلاف ہے جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف منظور کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جو قرارداد منظور کی ہے وہ ایک کمزور قرارداد ہے کیونکہ ان کے بقول پیپلز پارٹی اور ان کے حلیف کسی مضبوط موقف پر اکھٹےہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اجتماع عام میں ایک قرارداد کے ذریعے یہ مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے مقامی جرگہ پر اعتماد کیا جائے۔
اجتماع میں ایک دوسری قرار داد منظور کی گئی جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت قبائلی عوام سے ان کی توہین پر معافی مانگے اور زیر حراست بےگناہ قبائلیوں کو فوری رہا کیا جائے جبکہ قبائلیوں کے خلاف درج مقدمات ختم کیا جائیں۔
اجتماع عام میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے قبائلیوں کے ورثاء کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور مسمار ہونے والوں گھروں کی سرکاری خرچ پر دوبارہ تعمیر کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
اجتماع میں جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے ٹیلی فونک خطاب بھی کیا۔