http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 24 October, 2008, 15:39 GMT 20:39 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

ایک اور پولیس اہلکار کا سر قلم

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک اور سکیورٹی اہلکار کی لاش ملی ہے جس کا سر قلم کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ طالبان نے اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ گزشتہ روز بھی طالبان نے ایک پولیس اہلکار کو گلہ کاٹ کر ہلاک کیا تھا۔

سوات میں ایک اعلی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فرنٹیر کور کا ایک اہلکار گزشتہ روز سادہ کپڑوں میں کسی کام کے سلسلے میں بازار گیا ہوا تھا کہ واپسی پر آتے ہوئے طالبان نے اسے ڈھیرائی کے مقام پر اغواء کیا اور اپنے ساتھ کسی نامعلوم مقام پر لےگئے۔ مزکورہ اہلکار ڈھرائی سکول میں تعینات تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کی صبح مزکورہ اہلکار کی لاش ایف سی کیمپ کانجو کے سامنے سے ملی ہے اور اس کا سر بدن سے جدا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد اہلکار کی میت ان کے ورثاء کے حوالے کردی گئی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایف سی اہلکار کو دن دہاڑے رکشہ سے زبردستی اتار کر اغواء کیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جس وقت اہلکار کو رکشے سے اتارا جا رہا تھا وہ چیخ چیخ کر مدد کے لیے پکار رہا تھا لیکن کوئی اسکی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے ایف سی اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی میڈیا کے ذریعے سے سکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کو کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں یا مردوں کو سوات مت بھیجیں ورنہ ان کا یہ حال ہوگا۔

سوات میں طالبان نے گزشتہ دو دنوں میں دو سکیورٹی اہلکاروں کے سر قلم کیے ہیں۔ جمعرات کو بھی تحصیل کبل میں ایک پولیس اہلکار کی لاش ملی تھی جنہیں گلہ کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔